شوہر کے طویل عرصہ قید ہونے کی وجہ سے تفریق کا حکم:
Question
قیدی کی بیوی اگر عفت کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی اور اس کے خرچے کا انتظام ہے تو کیا قاضی یا جماعۃ المسلمین تفریق کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ قیدی کی مدت لمبی ہو؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شدید مجبوری اور زنا سے تحفظ کے لیے امام مالک رحمه الله کے قول پر فتویٰ دیا جائے تو خلافِ صواب نہ ہوگا ۔ یعنی مذہب مالکی میں ترک مجامعت بھی وجہ تفریق ہے، لہذا عورت اپنا مقدمہ قاضی کی عدالت میں یا جمعیت العلماء کے سامنے پیش کر دے کہ فلان میرا شوہر فلان جیل میں ہے اور اس کی سزا کافی طویل ہے، اور اتنی مدت انتظار کرنا میرے بس سے باہر ہے، مجھے نکاح کی سخت ضرورت ہے، بصورتِ دیگر گناہ میں پڑنے کا سخت اندیشہ ہے ۔ قاضی یا جمعیۃ العلماء باقاعدہ تحقیق کریں کہ عورت کے بیان میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے، اگر عورت کا بیان صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے پاس حکم بھیجے کہ بیوی کے حقوق ادا کرو یا اس کو بلا لو یا وہیں سے کوئی انتظام کرو، ورنہ اس کو طلاق دے دو، اگر کچھ منظور نہ ہو تو پھر ہم خود تفریق کر دیں گے، اس پر بھی خاوند کوئی صورت قبول نہ کرے تو قاضی عورت کو مزید ایک ماہ کے انتظار کا حکم دے، اگر اس مدت میں شوہر کی رہائی یا سزا میں تخفیف کے کچھ اسباب پیدا نہ ہوے تو قاضی یا جمعیۃ العلماء عورت کو اس مرد کی زوجیت سے الگ کر دے ۔ اس کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ترک مجامعت اور بیوی کو معلقہ بنا کر رکھنا بھی تفریق کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، کیوں کہ حقوق زوجیت کی ادائیگی واجب ہے، حقوق زوجیت ادانہ کرنا اور بیوی کو معلقہ بنا کر رکھنا ظلم ہے، اور رفع ظلم قاضی کا فرض ہے، نیز صورتِ مذکورہ میں عورت کا معصیت میں مبتلا ہونا بھی ممکن ہے، قاضی کا فرض ہے کہ ایسے امکانات کو بند کر دے، اس لیے کہ اگر عورت قاضی کے یہاں مذکورہ بالا شکایت کے ساتھ مرافعہ کرے تو قاضی تحقیق حال کے بعد لازمی طور پر رفع ظلم کرے گا اور معصیت سے محفوظ رکھنے کے مواقع پیدا کرے گا، مذہب مالکی میں بھی ترک مجامعت وجہ تفریق ہے ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۹۲، دفعہ ۷۳) ۔
وإذا ثبت لها التطليق بذلك فبخشية الزنا أولي، لان ضرر ترك الوطء أشد من ضرر عدم النفقة، ألا تري أن إسقاط النفقة يلزمها، وإن أسقطت حقها في الوطء فلها الرجوع فيه، ولأن النفقة يمكن تحصيلها بنحو تسلف وسـؤال بخلاف الوطء. (من فتوي العلامة سعيد بن صديق الفلاتي، بحواله: الحيلة الناجزة: ۱۱۸، دار الاشاعت، ديوبند).
ملاحظہ فرمائیں "الحیلۃ الناجزۃ" میں ہے:
ہرچند کہ حنفیہ کا مذہب از روئے دلیل نہایت قوی اور غایتِ احتیاط پر مبنی ہے، مگر فقہائے حنفیہ میں سے بعض متأخرین نے وقت کی نزاکت اور فتنوں پر نظر فرماتے ہوے اس مسئلہ میں امام مالک کے مذہب پر فتوی دیا ہے جیسا کہ علامہ شامی رحمه الله نے
"الدر المنتقي"
سے قہستانی کا قول نقل کیا ہے: "
لو أفتي به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن". (فتاوى الشامي: ٤/۲۹۵، مطلب في الافتاء بمذهب مالك رحمه الله، سعيد)
اور ایک عرصے سے اربابِ فتوی اہلِ ہند و بیرونِ ہند تقریباً سب نے اسی قول پر فتویٰ دینا اختیار کر لیا ہے، اور یہ مسئلہ اس وقت ایک حیثیت سے فقہ حنفی ہی میں داخل ہو گیا، لیکن جب تک عورت صبر کر سکے اس وقت تک اصل مذہبِ حنفی پر عمل کرنا لازم ہے، ہاں بوقتِ ضرورتِ شدیدہ کہ خرچ کا انتظام نہ ہو سکے یا بوجہ خوف معصیت کے بیٹھنا مناسب نہ سمجھا جاوے، اس وقت مذہبِ مالکیہ پر عمل کرنے میں مضائقہ نہیں، اور ایسے ہی مواقع کے لئے یہ فتوی مرتب کیا گیا ہے ۔ (
الحيلة الناجزة: ۵۰، دار الاشاعت، ديوبند، من فتوي العلامة سعيد بن صديق الفلاتي المالكي رحمه الله).
کتاب الفسخ و التفریق میں ہے:
اگر عورت کو نفقہ نہ ملنے کی وجہ سے طلاق کے مطالبہ کا حق ثابت ہے تو زنا کے اندیشہ سے بدرجۂ اولیٰ یہ حق ہوگا، اس لئے کہ ترکِ وطی کا ضرر عدمِ نفقہ کے ضرر سے زیادہ سخت ہے ۔ دوسری وجہ یہ کہ قرض یا سوال کے ذریعہ نفقہ حاصل کرنا ممکن ہے، لیکن وطی میں ایسا ممکن نہیں ہے ۔ (کتاب الفسخ و التفریق: ص ۷۳) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
بہتر یہ ہے کہ کسی طرح طلاق حاصل کر لی جائے، اگر طلاق نہ دے تو کچھ مال دے کر خلع کر لے، ایسا بھی نہ ہو سکے تو پھر کسی مسلمان حاکم کی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرے، وہ حاکم اس قیدی کو طلاق دینے پر مجبور کرے، نہ دے تو پھر یہ حاکم خود طلاق کا حکم کر دے، حاکم کا یہ حکم قائم مقام طلاق کے ہو جائے گا، بشرطیکہ حاکم مسلمان ہو ۔
وهذا في الأصل مذهب الإمام مالك رحمه الله إلا أن علمائنا الحنفية أفتوا عليه لمكان الضرورة الشديدة
(
ملخص از امداد المفتین: جلد دوم: ٦۷۲، دار الاشاعت، کراچی) ۔
فتاوی دار العلوم کبیر میں ہے:
سوال کا ماحصل یہ ہے کہ زید کو کسی جرم میں تیس سال کی قید ہو گئی، تین سال گزر چکے، ستائیس سال باقی ہیں، زوجہ کہتی ہے کہ میں اس قدر مدت مدید بلا خاوند صبر نہیں کر سکتی، نکاح فسخ کرایا جائے ۔ زید طلاق دینا یا علیحدہ کرنا نہیں چاہتا، دور کے رشتہ دار کے مکان میں رکھنا چاہتا ہے، اس پر اطمینان نہیں، آبرو ریزی کا ظنِ غالب ہے، بحالت موجود ہ حکم شرعی کیا ہے، جبراً نکاح فسخ ہو سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: اصل مذہب حنفیہ کا اس صورت میں یہ ہے کہ نکاح فسخ نہیں ہو سکتا، اور بدون طلاق دینے شوہر کے نکاحِ ثانی عورت کو کرنا درست نہیں ہے ۔ لیکن بعض دیگر ائمہ ایسی صورت میں فسخِ نکاح کو جائز فرماتے ہیں، اور حنفی کو بضرورت اس پر عمل کرنا درست ہے، لہذا موقعِ ضرورت میں حنفی کو گنجائش ہے کہ تفریق کرا دے اور عدت کے بعد جوازِ نکاحِ ثانی کا فتوی دے دے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۰/۲۳۰) ۔
نیز فقہاء احناف نے ظہار کے باب میں تحریر فرمایا ہے کہ اگر مظاہر کفارہ ادانہ کرے اور عورت کو معلق رکھے تو عورت قاضی کے پاس مرافعہ کر سکتی ہے اور حاکم عورت سے دفع ضرر کرے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع الصنائع میں ہے:
أن للمرأة أن تطالبه بالوطء وإذا طالبته به فعلى الحاكم أن يجبره حتى يكفر ويطأ لأنه بالتحريم بالظهار أضر بها حيث منعها حقها في الوطء مع قيام الملك فكان لها المطالبة بإيفاء حقها ودفع التضرر عنها وفي وسعه إيفاء حقها بإزالة الحرمة بالكفارة فيجب عليه ذلك ويجبر عليه لو امتنع
(بدائع الصنائع: ۳/۲۳٤، أحكام الظهار، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1577
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1577