شوہر کا مدتِ طویلہ تک خبر گیری نہ کرنے پر فسخ نکاح کا حکم:
Question
ایک عورت کی شادی ہوے تقریباً چودہ سال گزر گئے، اور اولاد بھی ہیں، لیکن تقریباً ۹ سال ہو گئے، شوہر نے بیوی بچوں کی کوئی خبر نہیں لی، اور اخراجات کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا، نیز اس نے گھر میں آنا بھی چھوڑ دیا اس صورت میں شریعتِ مطہرہ کی جانب سے کیا حکم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب طویل عرصہ سے شوہر نے بیوی بچوں کی خبرگیری نہیں کی، اور نیز نان و نفقہ کا انتظام بھی نہیں کیا اور گھر میں آنا بھی چھوڑ دیا تو شرعاً بیوی کو حق ہے کہ وہ شرعی قاضی یا جمعیت العلماء کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دے، قاضی یا جمعیت العلماء معاملہ کی تحقیق کے بعد شوہر کو نفقہ وغیرہ ادا کرنے پر مجبور کرے، ادانہ کرنے کی صورت میں طلاق پر مجبور کرے، اور کوئی صورت قبول نہ کرے تو قاضی یا جمعیت العلماء نکاح فسخ کر دے، عورت عدت گزار کر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی شامی میں ہے:
قال في غرر الأذكار: ثم اعلم أن مشايخنا استحسنوا أن ينصب القاضي الحنفي نائباً "من مذهبه التفريق" بينهما إذا كان الزوج حاضراً وأبي عن الطلاق، لأن دفع الحاجة الدائمة لا يتيسر إلا بالاستدانة، إذ الظاهر أنها لا تجد من يقرضها وغني الزوج مآلاً أمر متوهم، فالتفريق ضروري إذا طلبته،
والحاصل أن التفريق بالعجز عن النفقة جائز عند الشافعي رحمه الله حال حضرة الزوج، وكذا حال غيبته مطلقاً
نعم يصح الثاني عند أحمدكما ذكره في كتب مذهبه وعليه يحمل ما في فتاوى قارئ الهداية حيث سأل عمن غاب زوجها، ولم يترك لها نفقة فأجاب: إذا قامت بينة على ذلك وطلبت فسخ النكاح من قاضٍ يراه ففسخ نفذ وهو قضاء على الغائب، وفي نفاذ القضاء على الغائب رويتان عندنا، فعلى القول بنفاذه يسوغ للحنفي أن يزوجها من الغير بعد العدة. (فتاوى الشامي: ۳/۵۹۰، مطلب في فسخ النكاح، سعيد).
علامہ سعید بن صدیق فلاتی مالکی کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
أما الجواب عن المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق، وإلا طلق عليه. قال محشّيه: قوله وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلى أن قال: وإن تطوع بالنفقة قريب أو أجنبي
قال ابن عبد الرحمن: لا مقال لها، لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتفي. (الحيلة الناجزة: ص ۱۱۵، ۱۱۹، ط: دار الاشاعت، ديوبند).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اگر شوہر نفقہ پر قدرت کے باوجود زوجہ کا نفقہ ادا نہ کرتا ہو اور نہ عورت عزت و آبرو کی حفاظت کے ساتھ خود نفقہ کا انتظام کر سکتی ہو اور نہ کوئی دوسرا شخص اس کے نفقہ کا کفیل ہو، یا دقت و پریشانی سے نفقہ کا انتظام تو ہو سکتا ہو لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاءِ معصیت کا قوی اندیشہ ہو اور شوہر خلع یا طلاق پر بھی راضی نہ ہو تو ایسی سخت مجبوری کی حالت میں زوجہ قاضی کے یہاں تفریق کی درخواست دے سکتی ہے، قاضی شہادت وغیرہ کے ذریعہ معاملہ کی پوری تحقیق کرے، اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو تو قاضی شوہر کو حکم کرے کہ بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو ورنہ ہم خود تفریق کر دیں گے، اگر شوہر کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے، اور یہ تفریق طلاق رجعی قرار پائے گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، مسلم پرسنل لا بورڈ: ص۱۹۸، دفعہ ۷۹) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (الحیلۃ الناجزۃ: ص ٦۳، حکم زوجہ متعنت فی النفقہ ۔ و کتاب الفسخ و التفریق، از مولانا عبد الصمد رحمانی، مکتبہ امارت شرعیہ: ص ۸۹ ۔ و کفایت المفتی: ٦/۱۱۷، فسخ و انفساخ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1584
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1584