دوران عدت جائز امور کا بیان:

4 min readFatwa Vol 4 #165Urdu

Question

دوران عدت جائز امور کا بیان:

Answer

(۱) نہانا، سر دھونا، بدن اور کپڑوں کو صاف ستھرا رکھنا جائز اور درست ہے ۔ (آپ کے مسائل ۵/۴۱۰) ۔
(۲) بوقت ضرورت سر میں تیل ڈالنا، سر میں کنگھی کرنا بھی جائز ہے، مثلا سر میں جوئیں پڑنے کا اندیشہ ہو ۔ (احسن الفتاوی ۵/۴۴۲) ۔
(۳) گھر میں کسی مخصوص کمرہ میں بیٹھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ گھر میں جہاں چاہے رہے، نیز گھر ہی کے اندر چلنا پھرنا بھی جائز ہے ۔
(٤) گھریلو کام کاج وغیرہ کی بھی اجازت ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ۔
(۵) بوقتِ ضرورت ہسپتال میں جا کر ڈاکٹر کو دکھانے کی بھی گنجائش ہے، حتی الامکان گھر بلا کر علاج کرالے، نیز ہسپتال میں رہنے کی ضرورت ہو تو اس کی بھی اجازت ہے ۔ (آپ ے مسائل: ۵/۴۱۰، و احسن الفتاوی: ۵/۴۴۳)
(٦) خاوند کے انتقال کے بعد کوئی معاش نہ ہو، اور اس کے پاس بھی کچھ موجود نہیں ہے جس سے اخراجات کا انتظام کر سکے تو پر دے کے ساتھ محنت مزدوری اور ملازمت کے لئے جا سکتی ہے، لیکن رات گھر آ کر گزارے اور دن میں بھی کام سے فارغ ہو کر فوراً گھر آ جائے، بلا ضرورت گھر سے باہر رہنا جائز نہیں ہے ۔ (آپ کے مسائل: ۵/۴۱۰) ۔
(۷) اگر عورت کو عدالت میں حاکم کے سامنے گواہی دینا ہو یا ضروری دستاویز پر دستخط کرنے ہوں، نیز عدالت میں حاضری سے اس کا اور اس کے بچوں کا مالی مفاد وابستہ ہو تو ایسی ضرورت کے لئے عورت عدات میں جا سکتی ہے، کام ختم ہوتے ہی گھر آ جانا ضروری ہے ۔ (آپ کے مسائل: ۵/۴۱۰) ۔
(۸) پنشن وغیرہ کی وصول یابی کی دفتری کاروائی کے لئے بھی جانے کی اجازت ہے، جب کہ اس کا جانا ضروری ہو ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۳٦٤، غیر مرتب) ۔
(۹) عورت کو سودا وغیرہ ضروری چیزوں کی ضرورت ہو اور کوئی لانے والا نہ ہو تو اس صورت میں بقدرِ ضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت ہے، اور ضرورت پوری ہوتے ہی گھر واپس آ جائے ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل: ۲/۱۳۵) ۔
(۱۰) مکان کے منہدم ہونے کا خطرہ ہو یا مکان میں عورت کو اپنے اسباب و متاع یا جان کے نقصان کا اندیشہ ہو یا رہائشی مکان کرایہ کا ہو اور عورت کرایہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو یا یہ مکان ترکہ بن کر تقسیم ہو رہا ہو اور عورت کے حصہ میں آنے والا رہائش کے لئے نا کافی یا عورت کو اس مکان میں سخت وحشت محسوس ہوتی ہو ۔
ان مذکورہ بالا صورتوں میں عورت کو قریب تر دوسرے مکان میں منتقل ہونے کی اجازت ہے ۔ عدت طلاق کی صورت میں شوہر کے پسند کردہ قریبی مکان میں چلی جائے گی اور عدت وفات میں اپنی پسند کے قریبی مکان میں منتقل ہو گی ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل، جلد دوم، ۱۳٤، ۔ و احسن الفتاوی: ۵/۴۴۰) ۔
(۱۱) عدت طلاق رجعی میں پان کھانا جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۴۴٦ ۔ و آپ کے مسائل: ۵/۴۱۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.