قرآنِ کریم کی قسم کھانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #241Urdu

Question

ایک شخص نے کہا کہ قرآن کی قسم میں آپ سے بات نہیں کروں گا، پھر بات کر لی تو کفارہ لازم ہوا یا نہیں؟ اور کیا قرآن کی قسم کھانا جائز ہے یا نہیں؟ اور قرآن کی قسم حلف بغیر اللہ میں شامل ہے یا نہیں؟

Answer

کتبِ احادیث کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا ممنوع ہے ۔ لیکن متأخرین فقہاء نے عرف کی وجہ سے قرآنِ کریم کی قسم کھانے کو صحیح قرار دیا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں قسم منعقد ہو گئی اور قسم توڑنے کی وجہ سے قسم کا کفارہ لازم ہو گیا ۔ نیز قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام اور صفت ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

لا يقسم بغير الله كالنبي والقرآن والكعبة قال الكمال: ولا يخفي أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يميناً وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف وقال العيني رحمه الله: وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا، وعند الثلاثة: المصحف، والقرآن، وكلام الله يمين. وفي الشامي: قوله وقال العيني: عبارته: وعندي لو حلف بالمصحف أو وضع يده عليه وقال: وحق هذا فهو يمين، ولا سيما في هذا الزمان الذي كثرت فيه الأيمان الفاجرة ورغبة العوام في الحلف بالمصحف. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۷۱۲، ۷۱۳ مطلب في القرآن، سعيد. وكذا في فتح القدير: ٤/۳۵٦، دار الفكر).

عالمگیری میں ہے:

قال محمد رحمه الله في الأصل: لو قال والقرآن لا يكون يميناً ذكره مطلقاً

وقد قيل هذا في زمانهم أما في زماننا فيكون يميناً وبه نأخذ ونأمر. (الفتاوى الهندية: ۲/۵۳. وكذا في البحر الرائق: ٤/۲۸٦، كوئته).

حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله امداد الاحکام میں تحریر فرماتے ہیں:
قرآن شریف کی قسم کھا کر اگر خلاف کرے تو کفارہ لازم ہے ۔ (امداد الاحکام: ۲/۳۳) ۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی قاموس الفقہ میں تحریر فرماتے ہیں:
جہاں تک قرآن مجید کی قسم کھانے کی بات ہے، تو فقہائے حنفیہ کی اصل رائے تو یہی ہے کہ اس سے قسم منعقد نہیں ہو گی، لیکن ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اس سے قسم منعقد ہو جاتی ہے، ابن ہمام رحمه الله نے لکھا ہے کہ صاحبِ ہدایہ وغیرہ نے قرآن کی قسم غیر درست ہونے پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ اس طرح قسم کھانا متعارف نہیں، لیکن ہمارے زمانے میں قرآن مجید سے قسم کھانا مروج و معروف ہے، اس لیے قرآن کی قسم منعقد ہوگی ۔ (قاموس الفقہ: ۵/۳۵٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱٤/۳۸ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۸/۳۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.