کافر یا یہودی ہونے کی قسم کھانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #244Urdu

Question

ایک شخص نے کہا کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو میں کافر یا یہودی ہوں گا، پھر وہ کام کر لیا تو یمین منعقد ہوئی یا نہیں؟ اور اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ قسم منعقد ہو گئی اور قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہو گیا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

وإن قال فعلت كذا فهو يهودي أو نصراني أو كافر يكون يميناً لأنه كما جعل الشرط علماً على الكفر فقد اعتقده واجب الامتناع وقد أمكن القول بوجوبه لغيره بجعله يميناً. (الهداية: ۲/٤۸۱).

فتح القدیر میں ہے:

فإذا فعله لزمه كفارة يمين قياساً على تحريم المباح فإنه يمين بالنص وذلك أنه ﷺ حرم مارية على نفسه فأنزل الله تعالى ﴿يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك﴾ ثم قال: ﴿قد فرض الله لكم تحلة أيمانكم﴾ ووجه الإلحاق أنه لما جعل الشرط وهو فعل كذا علماً على كفره ومعتقده حرمة كفره فقد اعتقده أي الشرط واجب الامتناع فكأنه قال: حرمت على نفسي فعل كذا كدخول الدار. (فتح القدير: ۵/۷۷، دار الفكر).

قاموس الفقہ میں ہے:
اگر کوئی شخص اس طرح قسم کھائے کہ اگر میں فلاں کام نہ کروں تو یہودی ہوں گا تو کیا یہ قسم متصور ہوگی؟
حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک اس سے یمین منعقد ہو جائے گی، اور اگر اس نے قسم پوری نہیں کی تو قسم کا کفارہ واجب ہو گا، مالکیہ اور شوافع کے نزدیک اس سے یمین منعقد نہیں ہو گی ۔ (قاموس الفقہ: ۵/۳۵۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.