تحریمِ حلال کی قسم کھانے سے بیوی کے حرام ہونے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #365Urdu

Question

ایک آدمی نے یوں قسم کھائی کہ اگر آئندہ میں جوا خانہ گیا تو مجھ پر حلال شیٔ حرام ہے۔ چونکہ پرانی عادت تھی اس لیے کچھ دنوں کے بعد وہاں گیا، اب اس کی قسم کا کیا حکم ہے؟ اس کی بیوی حرام ہوئی یا نہیں؟ جب کہ اس نے بیوی کی طلاق کی کوئی نیت نہیں کی تھی؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ وہ حانث ہو گیا، اور کفارہ واجب ہوا، لیکن بیوی پر طلاق کے بارے میں متقدمین فرماتے ہیں: بلا نیت طلاق واقع نہیں ہو گی، اور متاخرین فقہاء کے نزدیک عرف کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گی، البتہ بعض فقہاء مثلاً: علامہ شامی رحمہ اللہ اور علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ہمارے عرف میں یہ الفاظ طلاق کے لیے مستعمل نہیں اس لیے نیت کا اعتبار ہوگا اور بلا نیت طلاق واقع نہ ہو گی۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قوله كل حل، قال في الهداية: ولو قال: كل حل علي حرام، فهو على الطعام والشراب إلا أن ينوي غير ذلك

وهذا كله جواب ظاهر الرواية ومشايخنا قالوا: يقع به الطلاق من غير نية لغلبة الاستعمال وعليه الفتوى، قلت: ومقتضي قوله فإنه يستعمل فيما يتناول عادة أن العرف كان أولاً في استعماله في الطعام والشراب ثم تغير ذلك إلى عرف آخر وغلب استعماله في الطلاق

والفتوى على قول المتأخرين بانصرافه إلى الطلاق البائن عاماً أو خاصاً

وتوقف البزدوي في مبسوطه في كون عرف الناس إرادة الطلاق به فالاحتياط أن لا يخالف المتقدمين. (فتاوى الشامي: ۳/۷۳۲، مطلب كل حل عليه حرام، سعيد).
قال في المبسوط: ولو قال: كل حل علي حرام، يسأل عن نيته فإذا نوى يميناً فهو يمين ولا تدخل امرأته فيه إلا أن ينويها فإذا لم ينو حمل ذلك على الطعام والشراب خاصة. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ٦/۱۲۸، ط: دار الفكر).
وفي خلاصة الفتاوى: ولو قال: كل حلال علي حرام

فقال في الفتاوى الصغرى: لا بد من النية قال في المحيط فإن نوى اليمين أو لم ينو شيئاً كان يميناً وينصرف إلى الطعام والشراب ولا تدخل فيه امرأته إلا بالنية استحساناً هكذا قال محمد رحمه الله، وعند مشايخ بلخ رحمه الله أنه تدخل امرأته بغير نية. (خلاصة الفتاوى: ۲/۹۵، ط: رشيدية).
(وكذا في البحر الرائق: ٤/۳۱۸، ط: دار المعرفة، والجوهرة النيرة: ۲/۲۹٤، ط: مكتبة إمدادية).

فتاوی فریدیہ میں مذکور ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے افسر کو تحریر کر دیا کہ میں فلاں تاریخ کو گھر آؤں گا اگر نہ آؤں تو مجھ پر حلال دنیا حرام ہے اس تحریر پر تحریر کنندہ اور دو گواہوں کے دستخط ہیں لیکن مقررہ تاریخ تک شخص مذکور گھر نہیں گیا بلکہ اس وقت تک نہیں گیا، کیا مذکورہ شخص پر بیوی مطلقہ ہو گی؟ حالانکہ اس شخص کا لکھتے وقت یہ وہم گمان بھی نہ تھا کہ "حلالِ دنیا حرام ہے " سے بھی طلاق واقع ہوتی ہے اب اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: چونکہ ایمان (قسم) کا دار و مدار عرف پر ہوتا ہے اور ہمارے دیار کے عرف میں یہ لفظ جماع کے متعلق معروف نہیں ہے اور یہ حالف بھی جماع کے متعلق خالی الذہن تھا، لہٰذا اس حالف پر بیوی مطلقہ نہیں ہوئی ہے، نہ قضاء اور نہ دیانۃً، و التفصیل فی کتاب ایمان رد المحتار: ۳/۸۹۔ (فتاوی فریدیہ: ۵/٤۹۷)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.