نذر ذبح مع تقسیم لحم کی منت میں تصدق بالقیمۃ کا حکم:
Question
ایک شخص نے بکری ذبح کر کے تقسیم کرنے کی منت مانی، پھر اس نے سوچا کہ اس میں رشتہ داروں کی ناراضگی کا خطرہ ہے، کیوں کہ صرف فقراء کو دیا جا سکتا ہے تو باقی رشتہ دار ناراض ہو جائیں گے، اس لئے بکری کی قیمت چپکے سے فقراء کو دینا چاہیے ۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں ہمارے اکابر کے فتاوی کی طرف رجوع کیا تو بظاہر تعارض ہے ۔
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمه الله نے "امداد الاحکام" میں ناجائز فرمایا ۔ ملاحظہ فرمائیں:
سوال: نذر غیر معین میں بجائے جانور کے اس کی قیمت ادا پر صدقہ کرنے سے نذر ہو گی یا نہیں اور بہتر جانور دینا ہے یا اس کی قیمت؟
Answer
اگر نذر ذبحِ حیوان کی تھی تو ذبح ہی واجب ہے، تصدقِ قیمت کافی نہیں، اور اگر ذبح کی نیت نہ تھی تو تصدقِ قیمت بھی کافی ہے ۔ (امداد الاحکام ۳/۴۲) ۔
اور حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله نے جائز فرمایا ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو:
اضحیہ کے سوا نذرِ ذبح سے نذرِ تصدق لحم مقصود ہے، ورنہ نفسِ ذبح کی نذر صحیح نہیں، اس لئے کہ اضحیہ کے سوا ذبحِ حیوان عبادتِ مقصودہ نہیں جب ذبح مقصود نہیں بلکہ تصدقِ لحم مقصود ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ ذبح حیوان واجب نہیں، بلکہ اختیار ہے چاہے یہ بکرا ذبح کر کے گوشت صدقہ کرے، یا بکرا زندہ صدقہ کر دے، یا اس کی قیمت صدقہ کر دے، یا قیمت کے برابر کوئی دوسری چیز ۔
قال في شرح التنوير: نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوي العشرة كتصدقه بثمنه. (رد المحتار ۳/۷۲).
(احسن الفتاوی: ۵/۴۸۳) ۔
اب یہ شخص حیران ہے اور سوچ رہا ہے کہ بکری کی جگہ اس کی قیمت دے سکتا ہوں یا نہیں؟
الجواب: فتاوی بزازیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بکری کو ذبح کرنا چاہیے، اس لئے حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله کے فتوے پر عمل ہونا چاہیے اور اس میں احتیاط بھی ہے ۔ اور فراغ ذمہ یقینی ہے ۔ نیز اراقتِ دم ایامِ قربانی کے علاوہ عبادت نہیں، لیکن اس کی جنس میں قربانی لازم ہے، اور جب اس کے ساتھ تصدقِ لحم مقصود ہو تو وہ عبادت بن گئی ۔
فتاوی بزازیہ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
قال: إن برئت من مرضي هذا ذبحت شاة أو على شاة أذبحها فصح لا يلزمه شيء ولو قال: على شاة أذبحها وأتصدق بلحمها لزمه. لله على أن أذبح جزوراً وأتصدق بلحمه يذبح مكانه سبع شياه. لزمه إراقة شاتين وسطين فذبح شاة سمينة تعدل وسطين لا يجزئه، لأن المقصود الإراقة والتصدق باللحم، والسمينة وإن عادلتهما في اللحم لا تعادلهما في الإراقة. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/۲۷۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1728
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1728