مدرسہ بنانے کی نذر کا حکم:
Question
ایک شخص نے یہ نذر مانی کہ اگر میری بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بیماری سے شفا دی تومیں طلبہ علم دین کے لیے مدرسہ بناؤں گا، کیا یہ نذر درست ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مدرسہ بنانے کی نذر صحیح اور درست نہیں ہے، اس وجہ سے کہ فقہاء کی تصریحات کے مطابق نذر منعقد ہونے کے لیے اس کا عبادتِ مقصودہ ہونا ضروری ہے، اور مدرسہ بنانا عبادتِ مقصودہ نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں تنویر الابصار میں ہے:
ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب وهو عبادة مقصودة ووجد الشرط لزم الناذر. وفي الشامية: قوله وهو عبادة مقصودة
قال في الفتح مما هو طاعة مقصودة لنفسها ومن جسها واجب
وفي البدائع: ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض وتشييع الجنازة والوضوء والاغتسال ودخول المسجد
وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قرباً إلا أنها غير مقصودة. (تنوير الأبصار مع فتاوى الشامي: ۳/۷۳۵، مطلب في أحكام النذر، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
تعمیر مسجد اگر چہ واجب ہے مگر عبادتِ مقصودہ نہیں لہذا یہ نذر واجب الاداء نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۴۷۸) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (عزیز الفتاوی: ص ۵۵٦ ۔ و کفایت المفتی: ۵/۲۵۱) ۔
الغرض جب مسجد بنانے کی منت صحیح نہیں تو مدرسہ کی بدرجۂ اولیٰ صحیح نہیں ہو گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1732
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1732