بعد السرقہ مال ہبہ کرنے سے سقوط حد کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #292Urdu

Question

ایک شخص پر چوری کی وجہ سے قطع ید لازم ہوا، قاضی نے فیصلہ کر دیا لیکن مالک نے سارق کو وہ مال ہبہ کر دیا تو قطع ید کی سزا ساقط ہو جائے گی یا نہیں؟

Answer

مالک کے ہبہ کر دینے سے قطع ید کی سزا ساقط ہو جائے گی، اگر چہ قاضی نے قطع ید کا فیصلہ کر دیا ہو ۔
چنانچہ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:

وإذا قضي على رجلين بالقطع في سرقة فوهبت له لم يقطع. (الهداية: ۲/۵۵۰، كتاب الحدود).

قدوری میں ہے:

فإن وهبها من السارق أو باعها منه أو نقصت قيمتها عن النصاب لم تقطع. (مختصر القدوري: ۲۷۲. وكذا في البحر الرائق: ۵/٤٦، كوئته. وفتح القدير: ۵/٤۰٦، دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.