تعزیراً بائیکاٹ (حقہ پانی بند کرنا) کا حکم:

8 min readFatwa Vol 4 #311Urdu

Question

ہمارے بعض علاقوں میں یہ عمل درآمد ہے کہ اگر کسی سے کوئی جرم صادر ہو جائے، تو بطورِ تعزیر قبیلہ والے اور محلہ کے لوگ اس سے بائیکاٹ کرتے ہیں، اور عرف میں یہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی حقہ بند ہے، اور بسا اوقات اس کو مسجد میں نماز سے اور جنازہ میں شرکت سے بھی روکتے ہیں، کیا شرعاً اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟

Answer

بطورِ تعزیر بائیکاٹ جائز اور درست ہے، لیکن مسجد میں نماز باجماعت وغیرہ سے روکنا جائز نہیں ہے، شریعتِ مطہرہ میں بہت سے ایسے واقعات دستیاب ہوتے ہیں جن سے بائیکاٹ کا ثبوت ملتا ہے لیکن مسلمانوں کے اجتماعی عبادتی امور مثلاً مسجد میں نماز باجماعت یا جنازہ وغیرہ میں شرکت سے روکنا ثابت نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه وسعي في خرابها﴾. (سورة البقرة، الآية: ۱۱٤).

مذکورہ بالا آیتِ کریمہ کے تحت حضرت مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن میں تحریر فرماتے ہیں:
مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ مسجد میں ذکر و نماز سے روکنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب ناجائز اور حرام ہیں، ان میں سے ایک صورت تو یہ کھلی ہوئی ہے ہی کہ کسی کو مسجد میں جانے سے یا وہاں نماز و تلاوت سے صراحۃً روکا جائے ۔ (معارف القرآن: ۱/۲۹۹) ۔
حضرت کعب بن مالک رضي الله عنه اور ان کے دو ساتھی جن سے بائکاٹ کیا گیا تھا اور جن کے بارے میں آیتِ کریمہ:
﴿وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى إذا ضاقت عليهم الأرض بما رحبت﴾.
نازل ہوئی تھی، پھر بھی ان کو نماز ِ پنجگانہ باجماعت ادا کرنے سے نہیں روکا گیا تھا، ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف کی روایت میں ہے:

وأما أناْ فكنت أخرج فأشهد الصلاة مع المسلمين وأطوف في الأسواق ولا يكلمني أحد

الخ. (رواه البخاري: ۲/٦۳۵، حديث كعب رضي الله عنه).

احادیثِ مبارکہ سے بائیکاٹ کا ثبوت:
(۱) حضرت کعب بن مالک رضي الله عنه اور ان کے دو ساتھیوں کے ساتھ ۵۰ دن تک بائکاٹ کیا گیا ۔
ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں ہے:

فلبثت بعد ذلك عشر ليال حتى كملت لنا خمسون ليلة من حين نهي رسول الله ﷺ عن كلامنا

(رواه البخاري: ۲/٦۳٦).

(۲) حضرت عبد اللہ بن مغفل رضي الله عنه نے اپنے بھتیجے سے ترک کلام فرمایا ۔ ملاحظہ ہو ابن ماجہ میں ہے:

عن سعيد بن جبير رضي الله عنه عن عبد الله بن مغفل رضي الله عنه أنه كان جالساً وإلى جنبه ابن أخ له فخذف فنهاه وقال: إن رسول الله ﷺ نهي عنها، وقال: إنها لأتصيد صيداً ولا تنكئ عدواً وإنها تكسر السن وتفقأ العين، قال: فعاد ابن أخيه يخذف، فقال: أحدثك أن رسول الله ﷺ نهي عنها عدت ثم تخذف لا أكلمك أبداً. (رواه ابن ماجة: ص ۳).

یعنی رسول اللہ ﷺ نے کنکریوں کے مارنے سے منع فرمایا کہ ان سے نہ شکار ہوتا ہے نہ دشمن زخمی ہوتا ہے ہاں کسی کا دانت توڑے گی یا آنکھ پھوڑے گی، راوی کہتے ہیں کہ ان کے کے بھتیجے نے پھر مارنا شروع کیا تو حضرت عبد اللہ بن مغفل رضي الله عنه نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ آنحضور ﷺ نے کنکریوں سے منع فرمایا اور تم مارتے ہو میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔
(۳) حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه نے اپنے بیٹے سے ترک کلام فرمایا ۔ ملاحظہ ہو مشکوٰۃ شریف میں روایت ہے:

عن مجاهد عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: لا يمنعن رجل أهله أن يأتوا المساجد فقال ابن عبد الله بن عمر رضي الله عنه: فإنا لنمنعهن، فقال عبد الله: أحدثك عن رسول الله ﷺ وتقول هذا، قال: فما كلمه عبد الله حتى مات. (رواه احمد، مشكاة المصابيح: ۱/۹۷).

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی اپنی بیوی کو مسجد سے نہ روکے تو حضرت عبد اللہ ابن عمر رضي الله عنه کے ایک بیٹے نے کہا ہم تو منع کریں گے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه نے فرمایا میں حدیث سناتا ہوں اور تم یہ بات کہتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضي الله عنه نے وفات تک اپنے بیٹے سے بات نہیں کی ۔
(٤) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضي الله عنه کے ساتھ ترک کلام فرمایا ۔

أن عائشة رضي الله تعالى عنها حدثت أن عبد الله بن الزبير قال في بيع أو عطاء أعطيته عائشة رضي الله تعالى عنها والله لتنهين عائشة أو لا حجرن عليها، فقالت: أهو قال هذا، قالوا: نعم، قالت: هو لله على نذر أن لا أكلم ابن الزبير أبداً فاستشفع ابن الزبير رضي الله عنه إليها حين طالت الهجرة

الخ. (رواه البخاري: ۲/۸٦۷، كتاب الادب، باب الهجرة).

خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زیادہ سخاوت کی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضي الله عنه نے کہا کہ اگر اس سے باز نہ آئے تو میں ان پر پابندی لگا دوں گا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو معلوم ہوا دریافت کیا کہ کیا اس نے ایسا کہا میں منت مانتی ہوں کہ ابن زبیر سے کبھی بات نہیں کروں گی، پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضي الله عنه نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بڑی مشکل سے راضی کیا ۔
مشکوٰۃ شریف میں ہے:

عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال. (مشكاة المصابيح: ۲/٤۲۷، باب ما ينهي من التهاجر).

حدیثِ بالا کی شرح میں ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:

قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك، وفي حاشية السيوطي على الموطأ: قال ابن عبد البر رحمه الله

وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه، أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده

وإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق فإنه ﷺ لما خاف على كعب بن مالك رضي الله عنه وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوماً

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: ۹/۲٦۲).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
ایسے لوگوں کے ساتھ اگر عام مسلمان کچھ دنوں کے لیے بطورِ تنبیہ تعلقات منقطع کر لیں اور اس کو اپنے حقہ پانی میں شریک نہ کریں، بیاہ شادی میں اس کے شریک نہ ہوں تو یہ جائز ہے، بلکہ مستحسن ہے، کما في اتحاد البصائر في ترتیب الأشباہ و النظائر: ص ۹۲ ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۲/۲۲۸) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ۵/۵۲۹ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۸/۵۰۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.