جمعہ کے دن دکان کھولنے کی شرط کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #329Urdu

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں:۔
ایک آدمی کسی شاپنگ سینٹر میں دکان (ریستورنٹ) کھولنا چاہتا ہے اور شاپنگ سینٹر کے قواعد و شرائط میں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اوقات (کھولنے اور بند کرنے) کی بڑی پابندی کرنی ہو گی، غیر مسلم مینجر دکان چلائے گا اور کام کرنے والے بھی غیر مسلم ہوں گے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن جمعہ کے وقت میں دکان بند نہیں کر سکتے ہیں۔ اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی حکمِ شریعت سے مطلع فرمائے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ جو شرائط و قواعد آپس میں طے کیے جائیں اگر وہ خلافِ شرع نہ ہو تو ان کی پابندی لازم اور ضروری ہے، بنا بریں اوقات کی پابندی کوئی خلافِ شرع نہیں ہے اس لیے اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے، اور غیر مسلم مینجر رکھنا بھی جائز اور درست ہے، شریعتِ مطہرہ نے تجارت میں وکیل کے ذریعہ ہونے والے عقود کو صحیح اور نافذ تسلیم کیا ہے اور وکیل کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے، غیر مسلم بھی وکیل بالبیع بن سکتا ہے۔
اور جمعہ کے دن نماز ِ جمعہ کے اوقات میں دکان کھولنے کے بارے میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے معارف القرآن میں تحریر فرمایا ہے کہ خرید و فروخت دونوں ممنوع ہے، اس لیے کہ دکان کھولیں گے تو خریدار آئیں گے، لیکن یہ صورت اس وقت ممنوع ہے جب کہ خریداروں کی اکثریت مسلمانوں کی ہو، ہاں اگر اکثر خریدار غیر مسلم ہیں، جیسا کہ اس ملک میں، تو اس وقت غیر مسلم کا دکان کھولنا ممنوع اور ناجائز نہیں ہے، کیوں کہ سعی الی الجمعہ مسلمان پر واجب ہے غیر مسلم پر نہیں ہے، نیز فقہاء نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں پر سعی الی الجمعہ واجب نہیں ہے، مثلاً مریض، مسافر، عورتیں وغیرہ تو ان کے لیے بیع و شراء بھی ممنوع نہیں ہے ۔ لہذا غیر مسلم کا دکان کھولنا اوقاتِ نماز ِ جمعہ میں ممنوع نہیں، نیز آپ کے لیے وہ کمائی بھی حرام نہیں ہے ۔
عقدِ اجارہ میں شرط لگانے سے متعلق فقہاء فرماتے ہیں کہ ایسی شرط لگانا جو عقد سے مناسبت نہ رکھتی ہو اور عقد کے تقاضا کے خلاف نہ ہو تو اس کی وجہ سے عقد فاسد نہیں ہوتا، بایں وجہ ایسا عقدِ اجارہ فاسد نہیں ہو گا کیوں کہ جمعہ کے وقت میں دکان کھولنا عقدِ اجارہ کے خلاف نہیں ہے ۔ ہاں یہ بات ضروری ہے کہ اوقاتِ نماز ِ جمعہ میں کوئی مسلمان دکان میں نہ رہے، بلکہ تمام کارکنان غیر مسلم ہوں ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ومن استأجر أرضاً على أن يكربها ويزرعها ويسقيها لأن الزراعة مستحقة بالعقد ولا يتأتى إلا بالسقي والكراب

وكل شرط هذه صفته يكون من مقتضيات العقد فذكره لا يوجب الفساد. (الهداية: ۳/۳۰٦).

شرح مجلہ میں ہے:

وكذا تفسد الإجارة لو استأجر بشرط لا يقتضيه العقد ولا يلائمه

بخلاف ما لو آجرها بشرط أن يحرثها ويزرعها أو يسقيها ويزرعها، فإنها لا تفسد، لأنه شرط يقتضيه العقد

ولو شرط أن يكري أنهارها العظام أو يسرقنها بحيث يبقي أثر هذه الأفعال لرب الأرض، تفسد لما ذكرنا، فلو لم تبق، بأن شرط كري جداولها الصغار، أو كانت المدة طويلة، لا تفسد، لأنه لنفع المستأجر، فهو شرط يقتضيه العقد. (شرح المجلة للأتاسي: ۲/۵٤۰، تحت المادة: ٤٦۰).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٦۰، باب الإجارة الفاسدة، سعيد).

ہدایہ میں ہے:

كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكله به غيره لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال فيحتاج إلى أن يوكل به غيره فيكون بسبيل منه دفعاً للحاجة وقد صح أن النبي ﷺ وكل بالشراء حكيم بن حزام رضي الله عنه. (الهداية: ۳/۱۷۷).
وفي الدر المختار: وكره تحريماً مع الصحة البيع عند الأذان الأول إلا إذا تبايعا يمشيان فلا بأس به لتعليل النهي بالإخلال بالسعي فإذا انتفى انتفى، وقد خص منه من لا جمعة عليه ذكره المصنف. وفي حاشية الطحطاوي: قوله وقد خص منه، أي من كراهية البيع عند الأذان الأول وفيه أنه لم يدخل لعدم العلة فيه حتى يخرج وقد يقال إن من لم تجب عليه الجمعة إذا تبايعا عند الأذان لا كراهة ولو سعيا بعد لأن السعي تبرع، قوله من لا جمعة عليه، كالنساء والمسافرين والمرضي لعدم وجوب السعي عليهم. (الدر المختار مع حاشية الطحطاوي: ۳/۸۳، كوئته. وكذا في فتاوى الشامي: ۵/۱۰۱، سعيد).

امام ابو بکر الرازی احکام القرآن میں فرماتے ہیں:

لم يتعلق النهي بمعني في نفس العقد وإنما تعلق بمعني في غيره وهو الاشتغال عن الصلاة وجب أن لا يمنع وقوعه وصحته كالبيع في آخر وقت صلاة يخاف فوتها إن اشتغل به وهو منهي عنه ولا يمنع ذلك صحته لأن النهي تعلق باشتغاله عن الصلاة. (أحكام القرآن للجصاص رحمه الله، الجزء الثالث، ص ٤٤۸).

کفایت المفتی میں ہے:
جن جگہوں میں جمعہ جائز نہیں ایسی جگہوں میں بعد اذانِ ظہر خرید و فروخت میں کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ جمعہ کے روز اذان کے بعد خرید و فروخت کے مکروہ ہونے کی علت استماعِ خطبہ ہے اور یہ علت ظہر میں مفقود ہے ۔ (کفایت المفتی: ۳/۲۸٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.