دکان چھوڑنے سے قبل اطلاع کرنے کی شرط کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #347Urdu

Question

ایک شخص نے زید سے دکان فی ماہ ۲۰۰۰ رینڈ کرایہ پر لی، مالک دکان نے معاہدہ میں یہ لکھا کہ دکان چھوڑنے سے تین ماہ پہلے اطلاع دینا ضروری ہے، بصورتِ دیگر تین ماہ کا کرایہ مزید دینا ضروری ہوگا، کیا ایسی شرط لگانا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ معاملہ مالی جرمانہ کے قبیل سے ہے، جن علماء کے نزدیک مالی جرمانہ لگانا جائز ہے وہ اس صورت کو جائز کہتے ہیں، اور جو حضرات مالی جرمانہ کو درست نہیں سمجھتے ان کے نزدیک یہ صورت جائز نہیں ہے۔ مالی جرمانہ کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا، جلد چہارم میں گزر چکی ہے۔
نیز اگر کسی ملازم پر شرط لگائی گئی کہ آپ ملازمت چھوڑنے سے تین ماہ پہلے بتلا دیں گے، بصورتِ دیگر آپ تین ماہ کی تنخواہ کمپنی کو دیں گے، اس کا بھی وہی جواب ہے جو ما قبل میں مذکور ہوا۔
اسی طرح اگر حکومت کی طرف سے ملازم کے حق میں یہ قانون ہو کہ مالک اس کو تین ماہ پہلے اطلاع کے بغیر ملازمت سے نہیں نکال سکتا، ورنہ ملازم حکومت سے نالہ کر کے تین ماہ کی مزید تنخواہ وصول کروا سکتا ہے، اس کا بھی وہی حکم ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.