قرض کی ادائیگی میں تاخیر پر مالی جرمانے کا حکم:
Question
جلدِ رابع میں آپ نے لکھا ہے کہ بعض علماء تعزیر بالمال کو جائز سمجھتے ہیں، اور اس کے کافی دلائل لکھے گئے ہیں، اب یہ مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ اگر کوئی مدیون یا مستقرض قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرتا ہے اور اس پر ایک لاکھ کا قرضہ ہے اور قرضہ کی اجل یکم دسمبر پوری ہو چکی تو کیا قرض کی تاخیر کی وجہ سے اس پر مالی جرمانہ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ مثلاً دو ماہ کی تاخیر پر دو ہزار اور تین ماہ کی تاخیر پر تین ہزار دینے پڑیں گے۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
بينواتوجروا.
Answer
یہ صورت بالکل ناجائز ہے، ایک لاکھ قرض کی جگہ ایک لاکھ دو ہزار وصول کرنا جائز نہیں، اس کو قرآنی ربا کہتے ہیں کہ اجل کے بڑھنے سے دین اور قرض بڑھ جاتا ہے یعنی قرض پر جرمانہ لگانا ناجائز ہے۔ ہاں کسی نامناسب فعل پر جرمانہ لگانے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے ایک جماعت کے ہاں یہ جرمانہ درست ہے اس کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا جلد چہارم میں گزر چکی ہے۔
نیز اجل کی بیع اور اس کا ثمن وصول کرنا بھی ناجائز ہے۔ (
الهداية: ۳/۷٤). -
وكذا في التبيين: لأن الأجل ليس بمال متقوم فلا يقابله شيء من الثمن. (تبيين الحقائق: ٤/۷۸). -
والمبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: فإن مبادلة الأجل بالمال ربا (ألا تري) أن الشرع حرم ربا النساء وليس ذلك إلا شبهة مبادلة المال بالأجل فحقيقة ذلك يكون رباً حراماً أولي. (المبسوط: ۲۱/۳۱). -
نیز جاہلیت کے زمانے میں اجل کے بڑھنے کے ساتھ رقم بڑھ جاتی تھی۔
وفي تكملة فتح الملهم: ربا النسيئة: وقد عرفه الإمام أبو بكر الجصاص بقوله: هو القرض المشروط فيه الأجل، وزيادة مال على المستقرض
وكان هذا الربا محرماً في سائر الأديان السماوية. أخرج ابن جرير عن ابن جريج قال: كانت بنو عمرو بن عمير بن عوف يأخذون الربا من بني المغيرة، وكانت بنو المغيرة يربون لهم في الجاهلية فجاء الإسلام ولهم عليهم مال كثير. وقد أخرج ابن أبي حاتم والشافعي عن عمرو بن الأحوص أن رسول الله ﷺ قال: ألا أن كل ربا كان في الجاهلية موضوع عنكم كله لكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون. (تكملة فتح الملهم: ۱/۵٦۷، ۵٦۸). -
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2111
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2111