قرض دار کے ٹال مٹول کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #223Urdu

Question

ایک شخص نے کسی کو قرض دیا ہے مقروض ادا نہیں کرتا ہے، اور قرض خواہ بار بار مانگتا ہے پھر بھی ٹال مٹول کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

بلا کسی عذرِ شرعی کے کسی کی رقم دبا لینا اور باوجود وسعت کے مطالبہ پر بھی نہ دینا شریعت کی نگاہ میں یہ ظلم ہے اور حرام ہے، لہذا مقروض کو چاہیے کہ جلد از جلد قرض ادا کر دے ۔
ملاحظہ ہو وسعت کے باوجود ٹال مٹول کرنے پر حدیث شریف میں وعید وارد ہوئی ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: مطل الغني ظلم

متفق عليه. (مشكاة المصابيح: ۱/۲۵۱، باب الإفلاس والانظار، قديمي).

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: غنی یعنی مال دار شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔

وعن الشريد رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لي الواجد يحل عرضه وعقوبته، قال ابن المبارك رحمه الله: يحل عرضه يغلظ له عقوبته يحبس له، رواه أبوداود والنسائي. (مشكاة المصابيح: ۱/۲۵۳، باب الإفلاس والانظار، قديمي).

ترجمہ: حضرت شرید رضي الله عنه روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مال دار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمه الله فرماتے ہیں: "یحل عرضہ" یعنی اسے زبان سے لعنت ملامت کی جائے گی اور سزا یہ ہے کہ اسے قید کر دیا جائے گا ۔
ترمذی شریف میں ہے:

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: صلي بنا رسول الله ﷺ يوماً صلاة العصر بنا بنهار ثم قام خطيباً فلم يدع شيئاً يكون إلى قيام الساعة إلا أخبرنا به

وفيه ألا وخيرهم الحسن القضاء الحسن الطلب، ألا وشرهم سيئ القضاء وسيئ الطلب

الخ. (رواه الترمذي: ۲/٤۳، باب ما أخبر النبي ﷺ أصحابه بما هو كائن إلى يوم القيامة، فيصل).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.