اجیر خاص کو مدتِ طویلہ کے لیے رکھنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے کمپنی کے ایک ملازم کو تربیت دی اور کام سکھایا اس پر محنت کی اور اس پر خرچہ کیا اور اس کو ملازم رکھا پھر اس سے کہا کہ اگر تم نے پانچ سال سے پہلے ملازمت چھوڑ دی تو تم کو اتنا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، یا تمہارے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی اب وہ ملازم ایک سال کے بعد چھوڑنا چاہتا ہے تو ملازم پر زبردستی کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اس ملازم کو پانچ سال تک روکنے کی یہ تدبیر ہو سکتی ہے کہ اس ملازم کو پانچ سال کے لیے رکھ لے مثلاً یہ کہے کہ ہم نے تم کو پانچ سال کے لیے رکھا اور پانچ سال کی تنخواہ اتنی ہے، آپ کی مرضی ہے چاہے تو پانچ سال کے بعد تنخواہ وصول کریں یا ماہانہ وصول کرتے رہیں، اس طرح عقدِ اجارہ طے کرنے سے ملازم وقت میعاد سے قبل بغیر شدید عذر کے ملازمت نہیں چھوڑ سکتا، وہ مالک کے پاس رہنے پر مجبور ہو گا، اور مدت سے پہلے چھوڑنے پر قانونی کاروائی کرنے کی اجازت ہو گی۔
ملاحظہ ہو فتاوی بزازیہ میں ہے:
لا يجوز عقدها حتى يعلم البدل والمنفعة وبيان المنفعة بأحد ثلاث بيان الوقت وهو الأجل وبيان العمل والمكان. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ۵/۱۱، كتاب الإجارات).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما في الأجير الخاص فلا يشترط بيان جنس المعمول فيه ونوعه وقدره وصفته وإنما يشترط بيان المدة فقط وبيان المدة في استئجار الظئر شرط جوازه بمنزلة استئجار العبد للخدمة لأن المعقود عليه هو الخدمة. (بدائع الصنائع: ٤/۱۸٤، كتاب الإجارة، سعيد).
تبيين الحقائق
میں ہے:
والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استوجر شهراً للخدمة
سمي أجيراً خاصاً وأجير وحد لأنه يختص به الواحد وهو المستأجر وليس له أن يعمل لغيره لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بها فيستحقه ما لم يمنعه من العمل مانع. (تبيين الحقائق: ۵/۱۳۷، ملتان).
عالمگیری میں ہے:
وأما في الأجير الخاص فلا يشترط بيان جنس المعمول فيه ونوعه وقدره وصفته وإنما يشترط بيان المدة فقط وبيان المدة في استئجار الظئر شرط الجواز بمنزلة استئجار العبد للخدمة (لأن المعقود عليه هو الخدمة). (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2208
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2208