وقف میں اجارۂ طویلہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #344Urdu

Question

وقف کی کسی زمین کو سو سال یا دو سو سال کے لیے کرایہ پر دینا درست ہے یا نہیں؟

Answer

اوقاف میں مدتِ اجارہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، تاہم متقدمین فقہاء نے مدتِ اجارہ کو متعین نہیں کیا ہے، البتہ متأخرین فقہاء نے وقف کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے تعیین مدت والا قول اختیار کیا ہے، مثلاً زمین جاگیر وغیرہ تین سال سے زیادہ کرایہ پر نہ دی جائے، اور رہائشی مکان وغیرہ ایک سال سے زیادہ کرایہ پر دینا درست نہیں، ہاں حسبِ مصلحت کمی بیشی کی گنجائش ہے، لیکن صورتِ مسئولہ میں سو سال یا دو سو سال کی مدتِ طویلہ کے لیے کرایہ پر دینا جائز اور درست نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں ضیاع وقف کا اندیشہ ہے، اور ممکن ہے کہ مرورِ زمانہ کی وجہ سے مستاجر کی اولاد زمین پر مالکانہ قبضہ کر لے، اور نسلاً بعد نسلٍ میراث میں تقسیم ہوتا جائے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

بالسنة يفتي في الدار وبثلاث سنين في الأرض إلا إذا كانت المصلحة بخلاف ذلك وهذا مما يختلف زماناً وموضعاً. وفي الشامية: واعلم أن المسألة فيها ثمانية أقوال ذكرها العلامة قنالي زاده في رسالته أحدها: قول المتقدمين عدم تقدير الإجارة بمدة ورجحه في أنفع الوسائل، والمفتي به ما ذكر المصنف رحمه الله خوفاً من ضياع الوقف كما علمت، قوله إلا إذا كانت المصلحة بخلاف ذلك

لأن أصل عدول المتأخرين عن قول المتقدمين بعدم التوقيت إلى التوقيت إنما هو بسبب الخوف على الوقف فإذا كانت المصلحة الزيادة أو النقص اتبعت وهو توفيق حسن. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/٤۰۱، كتاب الوقف، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.