اسلامی بینک کے اجارہ پر اشکال اور جواب:
Question
بعض اسلامی بینکوں میں اجارہ کا یہ طریقہ رائج ہے کہ جس کو گاڑی فروخت کرتے ہیں بینک اس کو گاڑی اجارہ پر دیتا ہے، اور ماہانہ کرایہ بینک وصول کرتا ہے پھر جب اجارہ کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو پھر بینک گاڑی کرایہ دار کو ہبہ کر دیتا ہے یا معمولی قیمت پر فروخت کرتا ہے،، شرعاً یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟ بعض حضرات اس پر حسبِ ذیل اعتراضات کرتے ہیں: ۔
(۱) گاڑی کی مرمت وغیرہ کی ذمہ داری مالک یعنی بینک پر آنی چاہیے، لیکن بینک پوری ذمہ داری کرایہ دار پر ڈالتا ہے؟
(۲) اس میں ہبہ کی شرط لگائی جاتی ہے، یعنی بالفاظ دیگر یہ صفقۃ فی صفقۃ ہے، اگر بینک گاڑی واپس لے لے تو کرایہ دار یقیناً ناراض ہو جائے گا، کیوں کہ وہ کرایہ کے عنوان سے گاڑی کی قیمت ادا کر چکا ہے، تو یہ اجارہ مشروط بالہبہ ہے؟
Answer
(۱) فقہاء کے کلام کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اگر مستاجر پر عین مؤجرہ کے استعمال کے سلسلے میں کوئی ایسی شرط لگائی جائے جس کا فائدہ مستاجر ہی کو پہنچتا ہو اور اس کا معتدبہ اثر اجارہ ختم ہونے کے بعد باقی نہ رہتا ہو تو یہ مفسدِ عقد نہیں ہے، اور بینک چونکہ مدتِ طویلہ (عام طور پر تین سال) کے لیے کرایہ پر دیتا ہے، پھر اس طویل مدت کے دوران جو سروس، ٹیوننگ یا معمولی مرمت کرائی جائے اس کا معتدبہ اثر تین سال بعد تک باقی نہیں رہتا، بنا بریں اگر بینک مستاجر پر ان امور کی شرط عائد کر دے جن کا تعلق گاڑی کے استعمال سے ہے، مثلاً پٹرول ڈالنا، سروس کرانا، ٹیوننگ کرانا، پلگ بدلنا، بیٹری تبدیل کرنا وغیرہ تو اس شرط کی وجہ سے اجارہ فاسد نہیں ہوگا ۔
فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں علامہ زیلعی رحمه الله فرماتے ہیں:
وإن شرط أن يثنيها أو يكري أنهارها أو يسرقنها أو يزرعها بزراعة أرض أخري لا، كإجارة السكني بالسكني، لأن أثر التثنية وكري الأنهار والسرقنة يبقي بعد انقضاء مدة الإجارة فيكون فيه نفع صاحب الأرض وهو شرط لا يقتضيه العقد فيفسد كالبيع، ولأن موجر الأرض يصير مستأجرا منافع الأجير على وجه يبقي بعد المدة فيصير صفقة في صفقة وهو مفسد أيضاً لكونه منهياً عنه حتى لو كان بحيث لا يبقي لفعله أثر بعد المدة بأن كانت المدة طويلة أو كان الريع لا يحصل إلا به لا يفسد اشتراطه، لأنه مما يقتضيه العقد، لأن من الأراضي ما لا يخرج الريع إلا بالكراب مراراً وبالسرقنة، وقد يحتاج إلى كري الجداول ولا يبقي أثره إلى القابل بخلاف كري الأنهار، لأن أثره يبقي إلى القابل عادة، وفي لفظ الكتاب إشارة إليه حيث قال: كري الأنهار ؛ لأن مطلقه يتناول الأنهار العظام دون الجداول واستئجار الأرض ليزرعها بأرض أخري ليزرعها الآخر يكون بيع الشيء بجنسه نسيئة وهو حرام لما عرف في موضعه وكذا السكني بالسكني أو الركوب بالركوب إلى غير ذلك من المنافع. (تبيين الحقائق: ۵/۱۳۱، باب الإجارة الفاسدة، ملتان).
در مختار مع رد المحتار میں ہے:
(أو أرضاً بشرط أن يثنيها أو كري أنهارها) العظام وفي الشامية: قوله العظام، لأن أثره يبقي إلى القابل عادة، بخلاف الجداول أي الصغار فلا تفسد بشرط كريها هو الصحيح، ابن كمال، (أو يسرقنها) لبقاء أثر هذه الأفعال لرب الأرض، فلو لم تبق لم تفسد وفي الشامية: قوله فلو لم تبق، بأن كانت المدة طويلة لم تفسد لأنه لنفع المستأجر فقط
(وصحت لو استأجرها على أن يكريها ويزرعها أو يسقيها ويزرعها) لأنه شرط يقتضيه العقد. وفي الشامية: قوله لأنه شرط يقتضيه العقد، لأن نفعه للمستأجر فقط. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۵۹، ٦۰، باب الإجارة الفاسدة، سعيد).
نیز یہ معاملہ مبنی بر عرف ہے، فقہاء نے عرف و عادت کا اعتبار کرتے ہوئے بے شمار مسائل فقہیہ کا مدار اسی پر رکھا ہے، اور آج کل کے عرف میں گاڑی کا اجارہ اگر چند گھنٹوں کے لیے ہو تو پٹرول سمیت ہر کام موجر کے ذمہ ہوتا ہے، اور اگر چند ایام کے لیے ہو تو مستاجر کے ذمہ صرف پٹرول ہوتا ہے، اور اگر چند سالوں کے لیے ہو تو معمولی مرمت، سروس، ٹیوننگ، بیٹری کی تبدیلی، پلگ کی تبدیلی وغیرہ جو استعمال سے متعلق ہے مستاجر کے ذمہ ہوتا ہے ۔
مسئلہ بالا کے چند دلائل اسی باب میں بعنوان "مستاجر پر مرمت کی شرط" کے تحت گزر چکے ہیں، وہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔
مزید ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:
في الظهيرية: استأجر عبداً أو دابة على أن يكون علفها على المستأجر، ذكر في الكتاب أنه لا يجوز، وقال الفقيه أبو الليث: في الدابة نأخذ بقول المتقدمين، أما في زماننا فالعبد يأكل من مال المستأجر عادة، قال الحموي: أي فيصح اشتراطه، واعترضه ط بقوله: فرق بين الأكل من مال المستأجر بلا شرط، ومنه بشرط، أقول: المعروف كالمشروط، وبه يشعر كلام الفقيه كما لا يخفي على النبيه، ثم ظاهر كلام الفقيه أنه لو تعورف في الدابة ذلك يجوز تأمل. (رد المحتار ٦/٤۷، باب الإجارة الفاسدة، سعيد. وكذا في الفتاوى الهندية: ٤/٤٤۲).
پھر جانور کے چارہ کے بارے میں بھی مختصر مدت اور طویل مدت کے درمیان فرق ہے، چنانچہ پہلے زمانہ میں حج کے طویل سفر میں چارے کے اخراجات موجر کے بجائے مستاجر پر ہوتے تھے ۔
ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں فرماتے ہیں:
فإن أراد الحمال أن يخرجه قبل ذلك فهو يريد أن يلزمه ضرر السفر من غير حاجة إليه فيسقط عن نفسه مؤنة العلف فلا يمكن من ذلك. (المبسوط: ۱٦/۲۰، ط: دار المعرفة).
(۲) صفقۃ فی صفقۃ کے اعتراض کا تفصیلی جواب کتاب البیوع میں گزر چکا ہے، وہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
البتہ اجارہ کا جو طریقہ اسلامی بینک میں اختیار کیا گیا ہے اس میں دو معاملے الگ الگ ہیں، ایک اجارہ کا اور اجارہ کے اختتام پر بیع کا یا ہبہ کا، پھر بعض اداروں میں تو معاہدہ صرف اجارہ کا ہوتا ہے، اور اس وقت بیع یا ہبہ کا کوئی وعدہ نہیں ہوتا، لیکن عملاً اجارے کے اختتام پر گاڑی مستاجر کو معمولی قیمت پر بیچ دی جاتی ہے، یا ہبہ کر دی جاتی ہے، اور بعض اداروں میں عقدِ اجارہ مکمل ہونے بعد موجر کی طرف سے بیع یا ہبہ کا وعدہ ہوتا ہے، اور وعدہ منفصل عن العقد صفقۃ فی صفقۃ میں داخل نہیں ہے ۔ اور ایسی صورت میں وعدہ لازم الوفاء قرار دیا جاتا ہے ۔
ملاحظہ ہو جامع الفصولين میں ہے:
ولو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لا زمة فيجعل لا زماً لحاجة الناس. (جامع الفصولين: ۱/۲۳۷، فصل في بيع الوفاء).
فتاوی قاضيخان میں ہے:
وإن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكر الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزمه الوفاء بالوعد لأن المواعيد قد تكون لا زمة فتجعل لا زمة لحاجة الناس. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۲/۱٦۵).
جامع الفصولين میں ہے:
ولو تواضعا قبل البيع ثم تبايعا بلا ذكر شرط جاز البيع عند أبي حنيفة رحمه الله إلا إذا تصادقا أنهما تبايعا على ذلك المواضعة، وكذا لو تواضعا الوفاء قبل البيع ثم قعدا بلا شرط الوفاء فالعقد جائز، ولا عبرة للمواضعة السابقة. (جامع الفصولين: ۱/۲۳۷، فصل في بيع الوفاء).
وللاستزادة انظر: (أحكام القرآن للجصاص رحمه الله: ۲/۲۹۵، والمبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: باب زكوة الإبل، ص ۱۷۹، ورد المحتار: ۵/۸٤، مطلب في الشرط الفاسد إذا ذكر بعد العقد أو قبل، سعيد. ودرر الحكام في شرح مجلة الأحكام: ۱/۷۷، المادة: ۸٤، دار الكتب العلمية. وإمداد الفتاوى: ۳/۱۰۸. غير سودي بينكاري، ص ۲۵٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2186
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2186