اجیر خاص پر شرط عائد کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #359Urdu

Question

زید ایک کمپنی کا مالک ہے اس نے عمر سے کہا تم میری کمپنی کا مال فروخت کرو گے تو تنخواہ کے علاوہ ۳ فیصد تم کو مزید دیا جائے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ کسی دوسرے کا مال فروخت نہیں کرو گے ۔ کیا یہ معاملہ بنگاہِ شریعت جائز ہے یا نہیں؟

Answer

مذکورہ بالا معاملہ شریعتِ مطہرہ کی نگاہ میں جائز اور درست ہے، کیوں کہ اس صورت میں عمر بحیثیتِ اجیر خاص ہوگا، لہذا یہ شرط جائز ہے، پھر تنخواہ کے علاوہ ۳ فیصد بحیثیتِ دلال اس کو ملے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی الشامی میں ہے:

وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. (فتاوى الشامي: ٦/٦۳).

صاحب ہدایہ نے ایک قانون اور ضابطہ کی بات بیان فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو:

إلا أن يكون متعارفاً لأن العرف قاضٍ على القياس ولوكان لا يقتضيه العقد ولا منفعة فيه لأحد لا يفسده. (الهداية: ۳/۵۹).

نیز اجیر خاص پر شرط لگانے کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں ۔ الدر المختار میں ہے:

بأن استأجره للرعي حيث يكون مشتركاً إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعي لغيره فيكون خاصاً

وليس للخاص أن يعمل لغيره. (الدر المختار: ٦/٦۹، سعيد).

فتاوی سراجیہ میں ہے:

وشرط أن لا يرعى مع غنمه غنماً آخر جاز. (الفتاوى السراجية، ص: ٤٦۲).

امداد الفتاوی میں ہے:
جو اجیر خاص ہو اس کو جتنا وقت اس عمل کے لئے معین ہو سکتا ہے اس میں دوسرا کام کرنا بلا اذن جائز نہیں ہے اور اذن بھی صاحبِ عطا یا وکیل مطلق صاحبِ عطا کا معتبر ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۳۸۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.