آخری جہت کی عدم تعیین پر وقف کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #333Urdu

Question

ایک شخص نے کہا کہ میرا مکان میرے مرنے کے بعد میری اولاد پر وقف ہے، پھر پوتوں پر پھر اس کے بعد کوئی تذکرہ نہیں کیا، تو یہ مکان وقف ہوا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ وقف صحیح اور ثابت نہیں ہوا اس لیے کہ وقف صحیح ہونے کے لیے آخری جہت فقراء اور مساکین ہونا ضروری ہے، تاکہ جہت منقطع نہ ہو جائے، کیوں کہ وقف میں تابید لازم ہے، اس کے بغیر وقف صحیح نہیں ہوگا، ہاں اگر واقف نے لفظ صدقہ کہا تھا تو امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک وقف صحیح ہو گیا ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاویٰ شامی میں ہے:

وقال في الإسعاف: لو قال وقفت أرضي هذه على ولد زيد وذكر جماعة بأعيانهم لم يصح عند أبي يوسف رحمه الله أيضاً لأن تعيين الموقوف عليه يمنع إرادة غير بخلاف ما إذا لم يعين لجعله إياه على الفقراء، ألا تري أنه فرق بين قوله موقوفة وبين قوله موقوفة على ولدي فصحح الأول دون الثاني، لأن مطلق قوله موقوفة يصرف إلى الفقراء عرفاً، فإذا ذكر الولد صار مقيداً، فلا يبقي العرف، فظهر بهذا أن الخلاف بينهما في اشتراط ذكر التأبيد وعدمه إنما هو في التنصيص عليه أو ما يقوم مقامه كالفقراء ونحوهم

لكن ذكر في البحر أن ظاهر المجتبى والخلاصة أن الروايتين عنه فيما إذا ذكر لفظ الصدقة، أما إذا ذكر لفظ الوقف فقط، لا يجوز اتفاقاً إذا كان الموقوف عليه معيناً، قلت: ويشهد له ما في الذخيرة لو قال: أرضي هذه صدقة موقوفة فهي وقف بلا خلاف إذا لم يعين إنساناً فلو عين وذكر مع لفظ الوقف لفظ صدقة بأن قال: صدقة موقوفة على فلان جاز ويصرف بعده إلى الفقراء. (فتاوى الشامي: ٤/۳٤۹، مطلب في الكلام على اشتراط التأبيد، سعيد).

خلاصہ یہ ہے کہ تعیین کی صورت میں وقف کے ساتھ لفظ صدقہ بھی کہے تو وقف صحیح ہو جائے گا، اور موقوف علیہ کے بعد وقف علی الفقراء ہوگا، لیکن اگر تعیین کی صورت میں فقط وقف کہا، صدقہ نہیں کہا تو وقف صحیح نہ ہوگا، اس لیے کہ وقف میں تابید اور دوام شرط ہے اور تعیین تابید کے منافی ہے، الا یہ کہ لفظ صدقہ تابید کو ثابت کر دیتا ہے اور وقف صحیح ہو جاتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بظاہر وقف کا لفظ استعمال کیا ہے لفظ صدقہ نہیں کہا اس لیے مکان وقف نہیں ہوا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.