مسجد میں مؤذن کی جگہ متعین کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #368Urdu

Question

مسجد میں امام کے پیچھے مؤذن کے لیے مصلیٰ بچھا کر جگہ مقرر کرنا یا مصلیٰ بچھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

Answer

حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ اس کو درست نہیں سمجھتے ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
یہی حکم مؤذن کا ہے اس کے لیے جگہ مخصوص کرنے اور الگ مصلیٰ بچھانے کی رسم صحیح نہیں مسجد میں پہنچ کر جو شخص جس جگہ بیٹھ جائے وہی حقدار ہے ۔ (احسن الفتاویٰ:
٦
/
٤۵۷
) ۔
جب کہ مولانا فتح محمد صاحب تلمیذ مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله اس کو صحیح سمجھتے ہیں ۔
حلال حرام کے احکام المعروف بعطر الہدایہ میں ہے:
(
۲
) مباح الانتفاع یہ مال وقف کے حکم میں ہے جیسے مساجد، بعض کنویں، پل، راستے وغیرہ ان میں بعض ضروری چیزوں کے لحاظ کے ساتھ عام لوگوں کا حق ہوتا ہے، مثلاً مسجد میں ہر شخص کو صفِ اول میں نماز پڑھنے کا حق ہے مگر امام خطیب یا مکبر یا مؤذن کی خصوصیات کا لحاظ ضروری ہے ۔ (حلال حرام کے احکام، ص
۳۱٦
، مباحات کا بیان) ۔
نیز
"ليلني منكم أولوا الأحلام"
سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام کے قرب میں بعض خاص لوگ بیٹھنے کے زیادہ حقدار ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

ـــــ

فصل دوم
آدابِ مساجد کا بیان

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.