مضارب کے لیے تنخواہ مقرر کرنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #393Urdu

Question

ایک شخص بطورِ مضاربت ایک دکان میں کام کرتا ہے، اس طرح کہ نفع میں سے ۲۵ فیصد اس کو ملتا ہے اور ۷۵ فیصد رب المال لیتا ہے، یا کسی کے ساتھ شریک ہے تو کیا شریک اور مضارب کو حصہ کے علاوہ تنخواہ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ یہاں تنخواہ دینے کا رواج ہے؟

Answer

مضارب کو عمل کا بدل منافع میں سے فیصد کے اعتبار سے دیا جائے گا، لیکن ماہانہ متعین تنخواہ نہیں لے سکتا، ہاں مضارب اگر تنخواہ دار ملازم کی حیثیت سے کام کرتا ہے تو تنخواہ لے سکتا ہے، لیکن اگر تنخواہ کے ساتھ منافع میں سے کچھ کم کر کے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، کیوں کہ شریک اجیر بن سکتا ہے یا نہیں اس میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر فقہاء کے یہاں یہ ناجائز ہے، البتہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمه الله نے اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

لا أجر للشريك في العمل بالمشترك. (رد المحتار: ٤/۳۲٦، سعيد).
النتف في الفتاوى
میں ہے:

لو كان طعام بين رجلين فقال أحد هما لصاحبه: احمله إلى الموضع كذا، ولك في نصيبي من الأجر كذا، أوقال: اطحنه ولك في نصيبي كذا من الأجر، جاز ذلك في قول زفر رحمه الله ومحمد بن صاحب رحمه الله، ولا يجوز في قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله. (النتف في الفتاوى: ص ۳٤۹، كتاب الإجارة، إجارة الشريك شريكه، سعيد).

مفتی رشید احمد صاحب فقہاء کی عبارات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
نصوصِ مذکورہ سے امورِ ذیل ثابت ہوئے:
(۱) شریک کو اجیر رکھنے کا عدمِ جواز کسی نصِ شرعی سے ثابت نہیں ۔
(۲) حضرت امام صاحب رحمه الله سے بھی اس بارہ میں کوئی روایت نہیں ۔
(۳) امام محمد رحمه الله کا قول ہے مگر آپ سے اس کی کوئی علت منقول نہیں ۔
(٤) بعض مشائخ نے جو علل بیان فرمائی ہیں وہ دوسرے مشائخ کی نظر میں مخدوش ہیں ۔
(۵) علامہ سعدی رحمه الله نے اس کو اجارۃ المشاع کی طرح قرار دیا ہے ۔
(٦) اجارۃ المشاع باجماع الائمۃ الاربعہ رحمه الله جائز ہے، البتہ امام صاحب رحمه الله غیر شریک کے لیے ناجائز فرماتے ہیں ۔
(۷) ائمہ ثلاثہ اجارۃ المشاع کی طرح شریک کو اجیر رکھنے کے جواز پر متفق ہیں ۔
(۸) قفیز الطحان کی حرمت نص شرعی سے ثابت ہونے کے باوجود بعض فقہاء نے بوجہ تعامل اس کے جواز کا قول فرمایا ہے مگر دوسرے فقہاء نے اسے اس لیے قبول نہیں فرمایا کہ یہ تعامل ان کے بلاد سے خاص ہے اور تعامل خاص سے ترکِ نص شرعی جائز نہیں ۔
(۹) ترکِ نص شرعی کے لیے تعامل عام شرط ہے مگر ترکِ نص مذہب کے لیے تعامل خاص بھی کافی ہے ۔
(۱۰) مذہبِ حنفی ہونے کی حیثیت سے اقوال صاحبین رحمه الله سے تعامل پر مبنی احکام مقدم ہیں ۔
(۱۱) نص مذہب کو تو تعامل خاص سے بھی ترک کر دیا جاتا ہے اور کمپنی کے شرکاء کو اجیر رکھنے کا تو تعامل عام ہے، لہذا اس میں بطریق اولی نص مذہب متروک ہو گی، بالخصوص جب کہ یہ نص امام بھی نہیں بلکہ قول محمد رحمه الله ہے جس سے تعامل مقدم ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۷
/
۳۲۸
) ۔

قال ابن عابدين رحمه الله: فهذه النقول ونحوها دالة على اعتبار العرف الخاص وإن خالف المنصوص عليه في كتب المذهب ما لم يخالف النص الشرعي

أقول: وبما قررناه تبين لك أن ما تقدم عن الأشباه من المذهب عدم اعتبار العرف الخاص إنما هو فيما إذا عارض النص الشرعي وأما العرف الخاص إذا عارض النص المذهبي المنقول عن صاحب المذهب فهو معتبر كما مشي عليه أصحاب المتون والشروح والفتاوى

ليس للمفتي ولا القاضي أن يحكما بظاهر الرواية ويتركا العرف. (رسائل ابن عابدين: ۲/۱۳۳).
وفيه أيضاً: فهذا كله وأمثاله دلائل واضحة على أن المفتي ليس له الجمود على المنقول في كتب ظاهر الرواية من غير مراعاة الزمان وأهله وإلا يضيع حقوقاً كثيرة ويكون ضرره أعظم من نفعه. (رسائل ابن عابدين: ۲/۱۳۱).
وفيه أيضاً: ولهذا تري مشايخ المذهب خالفوا ما نص عليه المجتهد في مواضع كثيرة بناها على ما كان في زمنه لعلمهم بأنه لو كان في زمنهم لقال بما قالوا به أخذاً من قواعد مذهبه. (رسائل ابن عابدين: ۲/۱۲۵، مكتبه محمد ويه، كوئته).

العرف و العادۃ میں ہے:

بيع الثمار على الأشجار

وظاهر مذهب الحنفية بطلانه، وبه قال شمس الأئمة السرخسي، وأفتي الحلواني وأبو بكر بن الفضل من مشايخ المذهب بالجواز

والحلواني وابن الفضل عدلا عن ظاهر المذهب للعرف، قال ابن الفضل: استحسن فيه لتعامل الناس، فإنهم تعاملوا ببيع ثمار الكرم بهذه الصفة، ولهم في ذلك عادة ظاهرة، وفي نزع الناس عن عاداتهم حرج، وكون هذا من بيع المعدوم المنهي عنه وتصريح ظاهر المذهب ببطلانه، لا يمنع من صحة ما أفتوا به، لأن العرف كما علمنا يخصص الأدلة ويعدل به عن ظاهر المذهب. (العرف والعادة، ص ۱۷۲، ۱۷۳).

خلاصہ یہ ہے کہ معاملات میں لوگوں کی سہولت کی خاطر آسانی کا پہلو اختیار کرنا چاہیے، بشرطیکہ شریعت کی حدود سے متجاوز نہ ہو اور شریک کی تنخواہ پر چونکہ لوگوں کا تعامل بھی جاری ہے، لہذا بقولِ حضرت مفتی رشید صاحب رحمه الله کے اس کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.