شریک کا اجیر اور ملازم بن کر تنخواہ لینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #408Urdu

Question

شریک کا اجیر اور ملازم بن کر تنخواہ لینے کا حکم:

Answer

زمانہ حال کے بعض علماء کے نزدیک شرکت کے معاملہ میں شریک اجیر بن سکتا ہے، اس اعتبار سے زید کا اجرت لینا درست ہے ۔ ملاحظہ ہو احسن الفتاوی میں مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمه الله رقم طراز ہیں:
کتبِ فقہی کی عبارات نقل کرنے کے بعد بطورِ خلاصہ چند امور پر نشاندہی فرمائی ہے:
۱ ۔ شریک کو اجیر رکھنے کا عدمِ جواز کسی نص شرعی سے ثابت نہیں ۔
۲ ۔ حضرت امام رحمہ اللہ تعالی سے اس کے بارے میں کوئی روایت نہیں ۔
۳ ۔ امام محمد رحمه الله کا قول ہے مگر آپ سے اس کی کوئی علت منقول نہیں ۔
٤ ۔ بعض مشائخ رحمه الله نے جو علل بیان فرمائی ہیں وہ دوسرے مشائخ رحمه الله کی نظر میں مخدوش ہیں ۔
۵ ۔ علامہ سعدی رحمه الله نے اس کو اجارۃ المشاع کی طرح قرار دیا ہے ۔
٦ ۔ اجارۃ المشاع باجماع الائمۃ الاربعہ جائز ہے ۔ البتہ امام محمد رحمه الله کے نزدیک غیر شریک کے لیے ناجائز ہے ۔
۷ ۔ ائمہ ثلاثہ اجارۃ المشاع کی طرح شریک کو اجیر رکھنے کے جواز پر متفق ہیں ۔
۸ ۔ قفیز طحان کی حرمت نص شرعی سے ثابت ہونے کے باوجود بعض فقہاء نے بوجہ تعامل اس کے جواز کا قول فرمایا ہے مگر دوسرے فقہاء نے اسے اس لیے قبول نہیں فرمایا کہ یہ تعامل ان کے بلاد سے خاص ہے اور تعامل خاص سے ترکِ نص شرعی جائز نہیں ۔
۹ ۔ ترکِ نص شرعی کے لیے تعامل عام شرط ہے مگر ترکِ نص مذہب کے لیے تعامل خاص بھی کافی ہے ۔
۱۰ ۔ مذہبِ حنفی ہونے کی حیثیت سے اقوالِ صاحبین رحمه الله سے تعامل پر مبنی احکام مقدم ہیں ۔
۱۱ ۔ نص مذہب کو تو تعامل خاص سے بھی ترک کر دیا جاتا ہے اور کمپنی کے شرکاء کو اجیر رکھنے کا تو تعامل عام ہے، لہٰذا بطریق اولی نص مذہب متروک ہو گی، بالخصوص جب کہ یہ نص امام بھی نہیں بلکہ قولِ محمد رحمه الله ہے جس سے تعامل مقدم ہے ۔ علاوہ ازیں مضاربت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، مضارب عمل مشترک سے نفع حاصل کرتا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۳۲۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.