موقوفہ زمین پر تعمیر مکان کا حکم:
Question
اگر زمین مدرسہ کی ہے اور کسی شخص نے بنیت وقف مکان بنایا تو یہ مکان وقف ہوگا یا نہیں؟ اگر واقف بعد میں کسی استاذ کو اس مکان میں ٹھہرانا چاہے تو واقف اولیٰ ہوگا یا مدرسہ کے ذمہ دار زیادہ حقدار ہوں گے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب زمین مدرسہ کی ہے تو مکان زمین کا تابع ہوا اور اس میں مدرسہ کے متولی کی بات چلے گی، عمارت کے واقف کی بات نہیں چلے گی ۔
ملاحظہ فرمائیں البحر الرائق میں ہے:
وفي المجتبى لا يجوز وقف البناء بدون الأصل هو المختار وفي الفتاوى السراجية: سئل هل يجوز وقف البناء والغرس دون الأرض؟ أجاب، الفتوي على صحة ذلك، وظاهره أنه لا فرق بين أن يكون الأرض ملكاً أو وقفاً
قال في الظهيرية:
وإن كانت (الشجرة) في أرض موقوفة فوقفها على تلك الجهة جازكما في البناء. (البحر الرائق: ۵/۲۰٤).
معین الحکام میں ہے:
وإذا كان أصل القرية وقفاً على جهة قرية فبني عليها رجل بناء ووقف بنائها على جهة قرية أخري اختلفوا فيه فأما إذا وقف البناء على جهة القرية التي كانت البقعة وقفاً عليها فيجوز بالإجماع ويصير وقفاً تبعاً للقرية هذا هو الذي استقر عليه فتاوى أئمة خوارزم. (معين الحكام مع لسان الحكام: ۲۹٤، الفصل العاشر في الوقف).
امداد الفتاوی میں ایک سوال کے جواب فرماتے ہیں: سوال کا عنوان یہ ہے "وقف شدن بناتبعاً للارض وتابع شدنش درجمیع احکام"
صورتِ مسئولہ میں یہ سب مکانات وقف ہو گئے البتہ اگر ان کا استثناء ہوتا تو وقف نہ ہوتے لیکن اب وقف ہونے میں کوئی اور جب تبعاً للارض وقف ہیں تو شرائط مصارف میں بھی ارض کے تابع ہیں مثلاً ارض موقوفہ کے منافع اگر کسی مدرسہ یا مسجد یا مساکین وغیرہم کے متعلق ہوں تو ان مکانات کو بھی کرایہ پر دے کران کی آمدنی ان ہی مصارف میں صرف کی جاوے گی ۔ (امداد الفتاوی: ۲/٦۰۷) ۔
معلوم ہوا کہ مدرسہ کی موقوفہ زمین اربابِ مدرسہ کی تحویل میں ہے اس میں ان کی مرضی چلتی ہے، لہذا موقوفہ مکان میں بھی ان کی مرضی چلے گی، اس وجہ سے مکان اربابِ مدرسہ کی تحویل میں دے دیا جائے، کیوں کہ مکان زمین کے تابع ہے بایں وجہ واقف کی یہ شرط معتبر نہیں ہو گی کہ اس مکان میں فلان آدمی رہے گا، چنانچہ اگر زمین مدرسہ کے طلبہ کے لیے وقف ہو اور اس میں کوئی درخت لگا کر مسافرین کے لیے وقف کر دے تو یہ درست نہیں ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1859
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1859