مدرسہ کے لیے مکان وقف کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی زمین میں برائے وقف مکان بنایا اور یہ شرط لگائی کہ میرے بعد یہ مکان برائے مدرسہ وقف ہے فلان استاذ اس میں رہے گا، اب اگر اس مکان میں کوئی اور استاذ رہے تو شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور واقف کو شرعاً اعتراض کا حق ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ بنگاہِ شریعت واقف کی شرائط کا اعتبار کیا جائے گا، لہذا جس استاذ کے متعلق واقف نے تصریح کی ہے اسی استاذ کو مکان میں ٹھہرانا ضروری ہے اور اگر کسی دوسرے استاذ کو اس مکان میں ٹھہرایا تو واقف اس پر اعتراض کر سکتا ہے، ہاں اگر واقف نے بعد میں عام اجازت دید ی ہو تو پھر دوسرے کو ٹھہرانا بھی جائز اور درست ہے ۔
قانون العدل و الانصاف میں ہے:
كل شرط لا يخل بحكم الوقف ولا يوجب فساده فهو جائز معتبر
شرط الواقف المعتبر كنص الشارع في الفهم والدلالة ووجوب العمل به. (قانون العدل والإنصاف، ۷٤. ۷۵، الفصل الاول في الشرط على العموم).
وفي الدر المختار: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل وإلا أثم لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل، وفي الشامية: وبه صرح في الخيرية أيضاً أي فإذا قال وقفت على أولادي الذكور يصرف إلى الذكور منهم بحكم المنطوق. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٤/٤۳۳، سعيد).
فتاوی شامی میں ہے:
شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك فله أي يجعله ماله حيث شاء مالم يكن معصية وله أن يخص صنفاً من الفقراء. (فتاوى الشامي: ٤/۳٤۳).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
واقف کی شرائط کی حیثیت نص جلی کی ہے اس لیے وقف سے استفادہ اور وقف کے انتظامات واقف کی شرطوں کے مطابق انجام پائیں گے ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی ۔ ص
۳۵٤
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1857
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1857