ایک مدرسہ کا چندہ دوسرے مدرسہ میں خرچ کرنے کا حکم:
Question
ایک صاحب نے ایک مدرسہ کے لیے کسی سے چندہ لیا اب دوسرا مدرسہ حاجت مند ہے تو وہ چندہ دوسرے مدرسہ میں خرچ کر سکتا ہے یا نہیں؟ خیال رہے کہ رسید نہیں کٹی ۔
Answer
اگر چندہ کرنے والے نے چندہ کرتے وقت صراحۃً یہ بتلا دیا کہ فلاں مدرسہ کے لیے چندہ کرتا ہوں تو پھر جب تک اس مدرسہ کو چندہ کی ضرورت ہے یا قریبی زمانہ میں ضرورت ہو گی اس وقت تک دوسرے مدرسہ میں دینا صحیح نہیں ہے ۔ ہاں اگر اس مدرسہ کونہ فی الحال رقم کی ضرورت ہے اور نہ آئندہ قریبی زمانہ میں ضرورت ہو گی اور دوسرا مدرسہ سخت حاجت مند ہے تو بایں صورت بعض فقہاء نے دوسرے مدرسہ میں صرف کرنے کی اجازت دی ہے ۔ البتہ احوط طریقہ یہ ہے کہ معطی کے ساتھ رابطہ ہو سکتا ہے تو اس سے اجازت حاصل کر لے پھر دوسرے مدرسہ میں خرچ کرے ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس جگہ خرچ کرنے کے لیے وہ روپیہ دیا ہے اسی جگہ خرچ کرنا لازم ہے اگر دوسری جگہ خرچ کر دیا تو ضمان لازم ہوگا اس لیے کہ متولی امین اور وکیل ہے معطی کی تصریح کے خلاف خرچ کرنے کا اس کو حق نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/٤۷٤، فاروقیہ) ۔
نیز مرقوم ہے چندہ دینے والوں کو اگر یہ منظور ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں تو ایسا کرنا شرعاً درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/٤۷٤، فاروقیہ) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
جن لوگوں نے اپنی جائداد یا روپیہ نقد مسجد کو دیا ہے اگر وقف کے وقت انہوں نے یہ شرط لگائی تھی کہ جو روپیہ مسجد کے خرچ سے زائد ہو وہ کسی اسلامی مدرسہ میں یا اور کسی مصرفِ خیر میں صرف کیا جائے تب تو یہ زائد روپیہ مدرسہ پر صرف ہو سکتا ہے خواہ اس وقت وقف کرنے والے اس پر آمادہ بھی نہ ہوں یا اگر وقف کرنے والوں نے بوقتِ وقف یہ شرط کر لی ہو کہ ہمیں اس جائداد اور روپیہ میں مصرف بدل نے کا اختیار حاصل رہے گا تب بھی واقفین اپنے اختیار سے دوسری جگہ خواہ مدرسہ میں یا کسی اور جگہ صرف کر سکتے ہیں، اور اگر بوقت وقف ان دونوں شرطوں میں سے کوئی شرط نہیں کی گئی تو پھر مسجد کا فاضل روپیہ کسی مدرسہ پر خرچ کرنا کسی طرح جائز نہیں ۔ البتہ کوئی دوسری مسجد اگر محتاج چندہ ہو اس میں بوجہ شدتِ ضرورت جواز کا فتویٰ علی رأی المتأخرین دیا جا سکتا ہے وہ اس وقت کہ جس مسجد کا روپیہ ہے اس کونہ اس وقت حاجت ہو اور نہ آئیدہ ایسی حاجت بنظر ظاہر مظنون ہو اور روپیہ جو فاضل جمع ہیں اس کے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہو ۔ (امداد المفتین:
۲
/
۷٦۸
، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1855
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1855