دعوتِ طعام کو چندہ کے ساتھ مشروط کرنے کا حکم:
Question
بعض اداروں میں ایسا ہوتا ہے کہ جب پیسے کی ضرورت پڑتی ہے اور اخراجات زیادہ ہو جاتے ہیں تو عام دعوتِ طعام پیش کرتے ہیں اور آنے والوں سے زائد رقم وصول کرتے ہیں اور جو رقم بچ جاتی ہے وہ اپنے ادارہ کے اخراجات میں لگاتے ہیں تو کیا یہ زائد رقم لینا اور اپنے کام میں خرچ کرنا درست ہے یا نہیں؟
Answer
دعوتِ طعام ادارہ والوں کی طرف سے اصلاً ایک تبرع ہے جس میں زائد رقم کی شرط بغیر کسی جبر کے لگائی گئی ہے، جس کو شرط منظور نہ ہو توا س کو عدمِ حاضری کا اختیار ہے، لہذا یہ معاملہ تبرعِ مشروط کے حکم میں داخل ہو کر جائز اور درست ہے ۔
حوالہ جات گزر چکے ہیں، تکرار سببِ طوالت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2127
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2127