مطبخِ مدرسہ سے کھانا لے جانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #406Urdu

Question

(الف) ایک طالب علم نے مطبخ میں کھانا کھا لیا اس کے باوجود روٹی کمرے میں لے گیا یہ درست ہے یا نہیں؟ (باء) مطنخ میں کھانا نہ کھائے تو روٹی کمرے میں لے جانا درست ہے یا نہیں؟
(ج) مطبخ سے مکھن وغیرہ کمرے میں لانا درست ہے؟ جب کہ کمرے میں کھانے والوں میں بعض وہ ہیں جنہوں نے مطبخ میں ناشتہ نہیں کیا اور بعض نے کیا ہے ۔

Answer

ان تمام کا تعلق امورِ انتظامیہ کے ساتھ ہے اور مدرسہ کا نظام یہ ہے کہ طلبہ ایک ساتھ بیٹھ کر مطبخ میں کھانا کھا لیں اور عام طور پر دفتر اہتمام کی طرف سے کمروں میں لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی، ہاں اگر بیمار ہے یا کوئی اور عذر ہے تو دفتر اہتمام سے پرچی حاصل کر کے کمرے میں کھانا لا سکتے ہیں، لیکن اگر پرچی لینا مشکل ہے مثلاً دفتر بند ہے یا کوئی اور عذر ہے تو مطبخ کے ذمہ دار حضرات کی اجازت سے لے جا سکتے ہیں، نیز اگر کسی طالب علم نے کھانا نہیں کھایا اور مطبخ والوں کی اجازت سے صرف بریڈ اپنے حصہ کے بقدر لے لی جائے تو گنجائش ہے ۔ بہرحال حتی الامکان قوانینِ مدرسہ کی پابندی ہر طالبِ علم کے لیے بے حد ضروری ہے کیوں کہ قوانین پر دستخط کر کے خود اس نے عہد و پیمان لیا ہے، اور عہد و پیمان و شروط کی رعایت احادیثِ طیبہ سے ثابت ہے بخاری شریف کی روایت ہے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"المسلمون عند شروطهم"
نیز عملی لائن میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر پابندی فرمائی اور صحابہ ث کو بھی اس کی تلقین فرمائی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.