بیع السرطان کا حکم:
Question
علامہ شامی رحمه الله نے فتاوی شامی میں بیع فاسد کے باب میں فرمایا ہے کہ تمام حیوانات کی بیع جائز ہے سوائے خنزیر کے، اس سے معلوم ہوا کہ سرطان (کیکڑے) کی بیع بھی احناف کے نزدیک جائز ہے، پس اگر جائز ہے تو یہ احناف کے اصول کے خلاف ہے کیوں کہ کیکڑا غیر ماکول ہے تو مالِ متقوم کیسے بنا کہ اس کی بیع جائز قرار دی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مذہبِ احناف میں خرید و فروخت کے جواز و عدمِ جواز کا مدار ماکول اللحم ہونے پر نہیں ہے، بلکہ اصل علت قابل انتفاع ہونا ہے، اگر وہ شے قابل انتفاع ہے اور نجس العین بھی نہیں ہے تو اس کی بیع جائز ہے اگر چہ وہ غیر ماکولات میں سے ہے، اور فقہاء کے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ سابقہ میں یہ چیزیں یعنی ہوام الارض، مثلاً حیات، سرطان، ضفدع وغیرہ اکثر ناقابل انتفاع تھے، لیکن آج کل قابل انتفاع ہیں، دوائیوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے، نیز دوا کے علاوہ دوسری چیزوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں، لہذا منتفع بہ ہونے کی وجہ سے امام محمد رحمه الله کے قول پر فتوی دیا گیا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:
ولا يجوز بيع النحل وهذا عند أبي حنفية رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله وقال محمد رحمه الله يجوز إذا كان محرزاً وهو قول الشافعي رحمه الله لأنه حيوان منتفع به حقيقة وشرعاً فيجوز بيعه وإن كان لا يوكل كالبغل والحمار. وفي شرح العناية: قال لأنه حيوان منتفع به حقيقة باستيفاء ما يحدث منه، وشرعاً لعدم ما يمنع عنه شرعاً، وكل ما هو كذلك يجوز بيعه وكونه غير مأكول اللحم لا ينافيه كالبغل والحمار
(الهداية مع شرح العناية على هامش فتح القدير: ٦/٤۱۹، باب البيع الفاسد، دار الفكر).
وفي فتح القدير: والوجه قول محمد رحمه الله للعادة الضرورية وقد ضمن محمد رحمه الله متلف كل من النحل ودود القز، وفي الخلاصة في بيعهما قال: الفتوى على قول محمد رحمه الله. (فتح القدير: ٦/٤۲۰، دار الفكر).
وفي الدر المختار: بخلاف غيرهما من الهوام فلا يجوز اتفاقاً كحيات وضب وما في بحر كسرطان إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى واعتمده المصنف رحمه الله، وفي الفتاوى الشامية: قوله كحيات في الحاوي الزاهدي: يجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها للأدوية، وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه أي من حيوانات البحر أو غيرها
ونقل السائحاني عن الهندية: ويجوز بيع سائر الحيوانات سوى الخنزير وهو المختار، وعليه مشي في الهداية وغيرها من باب المتفرقات. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/٦۸، مطلب في بيع دودة القرمز، سعيد)
وفي تقريرات الرافعي: (يجوز بيع الحيات) هي وإن كان فيها نفع إلا أنه يحرم أكلها فليحرر حموي، سندي. (التحرير المختار: ۵/۱٤۱، سعيد).
وللاستزادة انظر: (فتح القدير: ۷/۱۱۸، مسائل منثورة، دار الفكر. والفتاوى الهندية: ۳/۱۱٤).
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں:
جس جگہ مینڈک اور کیکڑے کی قیمت ہو اسی طرح جو دریائی جانور بازار میں عام طور سے قیمتی شمار ہوتے ہیں وہاں ان کی بیع جائز ہے اور ثمن حلال ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳۷۷) ۔
اشکال اور جواب:
اشکال: لیکن بیع السرطان پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے بیع السرطان سے منع فرمایا ۔ اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: حافظ ابن حجر رحمه الله نے حدیث مذکور کے بارے میں فرمایا: "
لم أجده". (الدراية: ٤/٤٤۲، كتاب الذبائح).
اور علامہ زیلعی رحمه الله نے نصب الرایہ
(٤/۲۰۱)
میں فرمایا:
"غريب جداً"
لہذا یہ حدیث ضعیف ہے اور قابل اعتماد نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1905
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1905