بشرطِ اقراض شیئرز کی تجارت کا حکم:
Question
ایک کمپنی کے منبروں کو شیئرز بیچے جائیں گے، اور ہر شیئرز خریدنے والے پر لازم ہے کہ شیئرز کے بدلہ میں کمپنی کو ۳۲۰ رینڈ قرضہ ادا کرے، اور کمپنی اپنے منبروں کو قرضے کے ساتھ رقم کا پانچ فیصد بطورِ نفع کے مزید ادا کرے گی، کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں:
Answer
اس معاملہ میں پہلی خرابی یہ ہے کہ اس میں شرط فاسد لگائی گئی ہے یعنی ہر شیئرز خریدنے والے پر ۳۲۰ رینڈ قرض دینا لازم ہوگا، اس کو فقہاء نے ممنوع لکھا ہے، دوسری خرابی یہ ہے کہ جو لوگ رقم جمع کراتے ہوں ان کو رقم کا فیصد ملے گا، یہ طریقہ بھی ناجائز ہے کیوں کہ مضاربت میں منافع کا حصہ ملنا چاہیے نہ کہ رقم کا حصہ، اگر یہ کہہ دیں کہ مضاربین کو منافع میں سے ٤۰ فیصد ملے گا تو یہ جائز ہے پھر جو منافع مل جائے اس کا ٤۰ فیصد سب مضاربین پر ان کے حصے کے حساب سے تقسیم کیا جائے گا، یہ بات بھی ضروری ہے کہ جس کمپنی کے شیئرز بیچے جا رہے ہوں اس کمپنی کی ملکیت میں کچھ اثاثے یا جائیداد ہو مثلاً ایک شخص مکان خرید لے اور اس کے شیئرز دوسرے لوگوں کو بیچ دے، اگر فی الحال کچھ بھی موجود نہیں اور لوگوں کو شیئرز بیچے جا رہے ہوں تو یہ درست نہیں، ہاں اگر لوگوں سے برابر رقم لے لی جائے اور اس سے مکان خرید لیا جائے اور سب لوگ اس مکان میں برابر کے شریک ہوں تو یہ درست ہے، لیکن یہ شیئرز کی بیع نہیں بلکہ مکان میں سب کو شریک کرنا ہے ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:
ولا بيع بشرط لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لا حدهما. (الدر المختار: ۵/۸۵، سعيد).
رد المحتار میں ہے:
قوله مثال لما فيه نفع للبائع، ومنه ما لو شرط البائع أن يهبه المشتري شيئاً أو يقرضه. (رد المحتار: ۵/۸۵، مطلب في الشرط الفاسد، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولو باع شيئاً على أن يهب له المشتري أو يتصدق عليه أو يبيع منه شيئاً أو يقرضه كان فاسداً. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۳٤، الباب العاشر في الشروط التي تفسد البيع).
خلاصۃ الفتاوی میں ہے:
ولو كان في الشرط منفعة لأحد المتعاقدين بأن شرط البائع أن يقرض المشتري أو على القلب يفسد العقد. (خلاصة الفتاوى: ۳/۵۰، الفصل الخامس في البيع).
بدائع الصنائع میں ہے:
ومنها أن يكون الربح جزء اً شائعاً في الجملة لا معيناً فإن عينا عشرة أو مئة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لا حدهما فلا يتحقق الشركة في الربح. (بدائع الصنائع: ٦/۵۹، كتاب الشركة، فصل في الشرائط العامة، سعيد).
(وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۰۵، كتاب الشركة، سعيد).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
آج کے دور میں شرکت کی ایک صورت یہ بھی چل نکلی ہے کہ ایک چلتی دکان یا فیکٹری وغیرہ کا مالک اپنے رشتہ داروں یا جاننے والوں سے کہتا ہے کہ تم کاروبار میں اتنی رقم شامل کرو تو ہر مہینہ تمھیں اتنا فیصد نفع ملے گا، وہ رقم شامل کرتا ہے اور ہر ماہ اس کو نفع کی مقررہ مقدار مل جاتی ہے اس کو عام طور پر لوگ جائز کاروبار سمجھتے ہیں حالانکہ شرعی نقطہ نگاہ سے اس میں کئی خرابیاں ہیں ۔
(۱) کسی بھی کاروبار میں سرمایہ پر نفع متعین کر کے دینا یہ قرض دے کر سود وصول کرنے کے حکم میں داخل ہے جو صریح حرام ہے ۔
(۲) اس میں رقم شامل کرنے والا نقصان کی صورت میں نقصان برداشت نہیں کرتا، وہ دکاندار کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ شرعاً شرکت کے لیے ضروری ہے کہ نفع نقصان دونوں میں شرکت ہو، لہذا یہ شرکت فاسدہ ہوئی، شرکت کی یہ صورت ناجائز ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۲/۲٦)
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
ہر شریک کے نفع کی شرح کاروبار میں حقیقتاً ہونے والے نفع کی نسبت سے طے ہونی چاہیے، اس کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری کی نسبت سے نہیں، یہ جائز نہیں ہے کہ کسی شریک کے لیے کوئی لگی بندھی مقدار مقرر کر لی جائے یا نفع کی ایک شرح طے کر لی جائے جو اس کی طرف سے لگائے گئے سرمائے سے منسلک ہو (یعنی کسی شریک کے بارے میں یہ طے کرنے کے بجائے کہ حقیقی منافع کا اتنا فیصد ملے گا یہ طے کر لینا کہ وہ اپنی لگائی ہوئی رقم کا اتنا فیصد لے گا جائز نہیں ہے) ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ۵/۳۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1929
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1929