بشرطِ حمل گائے کی تجارت کا حکم:
Question
ایک شخص نے گائے خریدی اس شرط پر کہ گابھن ہے لیکن وہ گابھن نہیں تھی، اب اس کو واپس کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
فقہاء کے ہاں حمل کی شرط کے ساتھ عقد فاسد ہے اور عقد فاسد واجب الرد ہے لہذا عقد کو فسخ کر کے دوبارہ عقد کر لے اور اس میں یہ شرط نہ لگائے، بلکہ بغیر اس شرط کے خرید لے، ہاں اگر بائع یہ وعدہ کرے کہ یہ گائے یا بکری حاملہ ہے اور بیع میں شرط نہ لگائے اور کہے کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر حمل نہ ہو تو واپس لے لوں گا، تو پھر حسب وعدہ اس کو واپس کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
فعلي هذا يتفرع ما لو باع ناقة أو شاة على أنها حامل أو تحلب كذا فسد البيع. (فتح القدير: ٦/۵۲۸، دار الفكر).
در مختار میں ہے:
بخلاف شراء ه شاة على أنها حامل أو تحلب كذا رطلاً
فسد لأنه شرط فاسد لا وصف. وفي الشامية: قوله لأنه شرط فاسد، لأنه شرط زيادة مجهولة لعدم العلم بها
لأن ما في البطن والضرع لا تعلم حقيقته. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۵۸۸، سعيد).
شرح مجلہ میں ہے:
ولو باع شاة على أنها حامل فسد البيع لأن الولد زيادة مرغوبة وأنها موهومة لا يدري وجودها فلا يجوز. (شرح المجلة: ۲/٦۷، لمحمد خالد الأتاسي).
شرح مجلہ میں ہے:
لو ذكر البيع بلا شرط، ثم ذكر الشرط على وجه العدة، جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لا زمة فيجعل لا زماً لحاجة الناس. (شرح المجلة للأتاسي، فصل في حق البيع بشرط، ۲/٦۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1934
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1934