بیع میں دھوکا دینے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #92Urdu

Question

ایک شخص کے پاس جعلی پانچ رینڈ کا سکہ آیا اس کو معلوم ہوا کہ یہ جعلی اور بناوٹی ہے، کیا یہ شخص اس سکے کو چلا سکتا ہے یا نہیں؟ یا اس کو پھینکنا ضروری ہے یعنی دھوکہ کھایا ہوا شخص دوسرے کو دھوکہ دے سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ ممکن ہے کہ دوسرا آدمی بھی اس کو چلائے گا کیوں کہ اس کی پہچان مشکل ہوتی ہے ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ پانچ رینڈ کا جعلی سکہ چلانا جائز اور درست نہیں اس میں دھوکہ دہی ہے، ہاں اگر کوئی ایسا ادارہ ہے مثلاً بینک جو آج کل جعلی سکوں کو جمع کرتا ہے تاکہ ختم ہو جائے، تو اس کو آگاہ کر کے دینا جائز ہوگا ۔ حدیث شریف میں دھوکہ دہی کی ممانعت وارد ہوئی ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں روایت ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ مر على صبرة من طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللاً، فقال: يا صاحب الطعام ما هذا؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله! قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس ثم قال: من غش فليس منا. (رواه الترمذي: ۱/۲٤۵، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع).

در مختار میں ہے:

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن لأن الغش حرام. وفي الشامية قوله لأن الغش حرام؛ ذكر في البحر أول الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة عليه البيان، وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر: لا نأخذ به، قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا لأنه صغيرة، قلت: وفيه نظر لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة، بل الظاهر في تعليل كلام الصدر إن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة وإن كان كبيرة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٤۷، سعيد).

در مختار میں ہے:

(ولو قبض زيفاً بدل جيد) كان له على آخر (جاهلاً به) فلو علم وأنفقه كان قضاء اتفاقاً (ونفق أو أنفقه) فلو قائماً رده اتفاقاً (فهو قضاء) لحقه وقال أبو يوسف رحمه الله: إذا لم يعلم يرد مثل زيفه ويرجع بجيده استحساناً كما لو كانت ستوقة أو نبهرجة، واختاره للفتوى ابن كمال قلت: ورجحه في البحر والنهر والشرنبلالية فبه
ٖ
يفتى. (الدر المختار: ۵/۲۳۳، سعيد).
وفي تقريرات الرافعي: قول الشارح كما لو كانت ستوقة أو نبهرجة أي فإنه يرجع بالجياد اتفاقاً. (التحرير المختار: ۵/۱۷۱، سعيد).
وفي رد المحتار: والنبهرجة: ما يرده التجار، والستوقة: أن يكون الطاق الأعلى فضة والأسفل كذلك وبينهما صفر وليس لها حكم الدراهم. (رد المحتار: ۵/۲۳۳، سعيد).

امداد المفتین میں ہے:
سوال: ایک نوٹ میرے پاس ایسا آگیا ہے جس میں تیل کا اثر ہے، معلوم ہوا کہ ایسے نوٹ کا حکم یہ ہے کہ دفتر کرنسی میں بھیج دیا جائے یا نوٹ اسی نمبر کا چھاپ کر بھیج دیا جائے اور چھپائی لے لی جائے گی، اگر بازار میں ہم اس نوٹ کو چلاویں تو کسی قسم کا گناہ تو نہیں؟
الجواب: نوٹ لینے والے کا اس میں ضرر ہے کہ اس کو چھپائی کی اجرت دینی پڑے گی، اس لیے بغیر اس کی اطلاع و رضا کے دینا جائز نہیں ۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص ۱۰۲٦، بعنوان "خراب نوٹ چلانا" ) ۔
نیز دھوکہ کھایا ہوا شخص دوسرے کو دھوکہ نہیں دے سکتا ہے، ہاں حتی الامکان اپنے آپ سے ضرر و ظلم کو دفع کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو قواعد الفقہ میں ہے:

المظلوم له أن يدفع الظلم عن نفسه بما قدر عليه لكن ليس له أن يظلم غيره. (قواعد الفقه، ص ۱۲٤، بحواله السير الكبير مع شرحه: ٤/۲۲۲).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.