گیس سلنڈر میں مارکیٹ پالیسی کے تحت کم گیس بھرنے کا حکم:
Question
ایک شخص ایک ایل پی (LP) گیس انڈسٹری میں کام کرتا ہے، اُس کا کام گیس بھرنا ہوتا ہے، عام طور پر خالی سلنڈر ۱۱ کیلو کے ہوتے ہیں اور ۹ کیلو گیس بھری جاتی ہے لیکن مارکیٹ پالیسی کے تحت پورا، ۹ کیلو نہیں بلکہ ۱۰۰ سے ۵۰۰ گرام کم رکھا جاتا ہے، اور ہم اس کے پابند ہوتے ہیں، اگر چہ پورے ۹ کیلو بھرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے، اور دوسری طرف ناپ تول میں کمی کرنے والے کے بارے میں قرآنِ مجید میں وعید آئی ہے، اب کیا میرے لیے ایسی ملازمت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ عام لوگ جانتے ہیں کہ کچھ کم گیس بھری جاتی ہے اور یہ کمپنی کی طرف سے ہے تو جائز ہے لیکن اگر مشتری کے ساتھ دھوکا بازی سے کام لیا جاتا ہو تو پھر ناجائز ہے ۔
حدیث شریف میں نبی ﷺ نے دھوکا دینے سے منع فرمایا: ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه، أن رسول الله ﷺ مر علي صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللاً، فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله! قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا. (رواه الترمذي: ۱/۲٤۵).
قال في الدر المختار: لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن لأن الغش حرام، وفي رد المحتار: قوله لأن الغش حرام، ذكر في البحر أول الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى إذا باع سلعة مبيعة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا: يفسق بمجرد هذا لأنه صغيرة، قلت: وفيه نظر، لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة بل الظاهر في تعليل كلام الصدر إن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة وإن كان كبيرة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٤۷، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
سوال: نائلون میں بیل چنٹ دار ہے وہ ہمیں نو میٹر ملتی ہے اور ہم اس کو کھینچ کر گیارہ میٹر بڑھا دیتے ہیں، اور ہم اس کو ناپ کر فروخت کرتے ہیں اور گاہک کہتا ہے کہ یہ کھینچی ہوئی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ کھینچ کر رکھی ہے، گاہک کی مرضی ہے کہ لے یا نہ لے، اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
الجواب: جب آپ بتلا دیتے ہیں کہ ہاں یہ کھینچ رکھی ہے، اور دھوکا نہیں دیتے تو خریدار کی مرضی ہے دل چاہے خریدے نہ دل چاہے نہ خریدے، دھوکا دیں تو ناجائز اور گناہ ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۲٤/۲۹۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3706
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3706