نفع کی تعیین کا حکم:
Question
شریعت میں نفع کی حد مقرر ہے یا نہیں؟ یعنی بائع کتنا نفع لے سکتا ہے، کیا سو فیصد نفع لینا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
شریعتِ مقدسہ میں نفع کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں ہے، بلکہ اس کو فطری اتار چڑھاؤ پر رکھا ہے، ہاں رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ طلب و رسد میں تناسب و توازن قائم رہے تاکہ قیمت میں بھی توازن برقرار رہے، البتہ کسی سامان پر اتنا زیادہ نفع حاصل کرنا جو غبن فاحش کے زمرہ میں آتا ہو کراہت سے خالی نہیں، اور غبن فاحش یہ ہے کہ سامان کی قیمت مقرر کرنے والوں کے دائرۂ تخمین سے بھی زیادہ ہو ۔
وقال في "الفقه الحنفي في ثوبه الجديد": وعرف الفقهاء الحنفية الغبن الفاحش بأنه ما لا يدخل تحت تقويم المقومين من أهل الخبرة، فلو قوم السلعة أحدهم بمائة درهم وقومها الثاني بخمسة وتسعين وقومها الثالث بتسعين مثلاً، فبيعها بما بين التسعين والمائة فيه غبن يسير، وبالتسعين فما دونها غبن فاحش بالبائع، وبالمائة فما فوقها غبن فاحش بالمشتري.
ثم حدد المتأخرون من الفقهاء الغبن الفاحش للتيسير في الفتوى والقضاء والتطبيق، أنه ما بلغ خمس القيمة في العقار وعشرها في الحيوان ونصف العشر في العروض وسائر المنقولات، وبهذا أخذت مجلة الأحكام العدلية في المادة: ۱٦۵ منها. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۱۹۳).
(وكذا في شرح المجلة لمحمد الأتاسي: ۲/۲٦، المادة: ۱٦۵).
ہدایہ میں ہے:
قال: ولا ينبغي للسلطان أن يسعر على الناس لقوله عليه الصلاة والسلام: لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره
إلا إذا تعلق به دفع الضرر العامة
فإن كان أرباب الطعام يتحكمون ويتعدون عن القيمة تعدياً فاحشاً وعجز القاضي عن صيانة حقوق المسلمين إلا بالتسعير فحينئذٍ لا بأس به بمشورة من أهل الراي والبصيرة. (الهداية: ٤/٤۷۲، كتاب الكراهية، فصل في البيع).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
شریعتِ مقدسہ نے تجارت میں مال میں منافع حاصل کرنے کی کوئی خاص حد متعین نہیں کی کہ کوئی مال خرید کر آپ صرف اتنے فیصد نفع لے کر فروخت کر سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں، بلکہ اس کو عاقدین پر چھوڑ دیا کہ وہ باہمی رضامندی سے جس طرح چاہیں معاملہ طے کر لیں، البتہ اس حد تک منافع لینا جس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہو یا لوگوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا خلافِ مروت ہے، اس لیے حکومتِ وقت پر لازم ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری پر قابو پانے کے لیے مناسب اقدام کرے ۔
ہاں البتہ مال کی بے جا تعریف کرنا یا عیب چھپانا یا نقلی اور جعلی مال کو اصلی ظاہر کر کے دھوکہ دے کر زیادہ رقم وصول کرنا یہ گناہِ عظیم ہے ۔
قال العلامة على حيدر رحمه الله: وجاء تعريف البيع في كثير من الكتب الفقهية بأنه مبادلة المال بالمال بالرضاء. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۱/۱۰٦). (
جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۸٦) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
شریعت میں نفع کے لیے کوئی تناسب متعین نہیں کیا گیا ہے، بلکہ یہ تاجرین کے عرف و رواج اور فریقین کی باہمی رضامندی پر موقوف ہے، البتہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اتنا نفع لینا جو غبن فاحش کے دائرہ میں آ جائے مکروہ ہے، غبن فاحش یہ ہے کہ کسی چیز کی بازار میں زیادہ سے زیادہ قیمت لگائی جاتی ہو، اس سے بھی زیادہ قیمت لی جائے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲۱۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1958
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1958