آم میں بیع سلم کا حکم:
Question
ایک صاحب کے ہاں دو ماہ بعد اس کے بیٹے کی شادی ہے اور پورے ملک سے قابل قدر مہمان اس میں شرکت کریں گے، چونکہ اس علاقے کے آم مشہور ہیں، اس لیے وہ آم کے کسی تاجر کے ساتھ بیع سلم کا معاملہ کرتا ہے کہ مجھے فلاں قسم کے آم ۱۰۰۰ کلو فلاں تاریخ کو اتنی قیمت میں چاہیے، لیکن اس وقت عام بازار میں آم دستیاب نہیں ہے تو کیا یہ بیع سلم جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ بجائے بیع سلم کے اس سے خاص قیمت پر آم فراہم کرنے کا وعدہ لے لے، لیکن اگر سلم ہی کی ضرورت ہو تو امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک بیع سلم نہیں ہو گی، کیوں کہ سلم میں اس چیز کا عقد کے وقت سے حوالہ کرنے تک کسی نہ کسی جگہ بازار میں موجود رہنا ضروری ہے، جب کہ آم اس وقت موجود ہی نہیں، ہاں ضرورت کے وقت امام شافعی رحمه الله کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، حضرت تھانوی رحمه الله اور حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله نے اس مسئلہ میں امام شافعی رحمه الله کے قول پر فتوی دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاوی میں ہے:
عقدِ سلم میں بیع کا وقت میعاد تک برابر پایا جانا حنفیہ کے نزدیک شرط ہے، اگر یہ شرط نہ پائی گئی تو عقدِ سلم جائز نہ ہوگا، لیکن امام شافعی رحمه الله کے نزدیک صرف وقت میعاد پر پایا جانا کافی ہے،
كذا في الهداية، (۳/۹۳)
تو اگر ضرورت میں اس قول پر عمل کر لیا جاوے تو کچھ ملامت نہیں رخصت ہے ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۱۰٦
) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے: چونکہ اس میں ابتلائے عام ہے، لہذا امام شافعی رحمه الله کے قول پر عمل کی گنجائش ہے ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۲۱
) ۔
درس الہدایہ میں ہے:
موجود ہ دور کی مشکلات کے پیش نظر فقہاء نے کہا کہ اگر ان مسائل میں امام شافعی رحمه الله کے قول پر فتوی دیا جائے تو گنجائش ہے تاکہ لوگوں کے اموال کو حرمت سے بچایا جا سکے ۔
فائدہ: دنیا میں ایک عبادات اور دوسرے معاملات کا نظام ہے، عبادات کے لیے نصوص ہونے چاہئیں اور معاملات میں ہر امام آسانی کرتا ہے ۔ (درس الہدایہ، باب شروط السلم، ص
۳۲۹
) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص
۳۹
۔
٤۳
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1979
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1979