ایک شیخ سے بیعت کرنے کے بعد دوسرے شیخ سے بیعت کرنا :

4 min readFatwa Vol 1 #198Urdu

Question

اگر ایک شخص کسی شیخ سے بیعت ہے دوسرے شیخ سے کسی وجہ سے بیعت کرتا ہے تو یہ درست ہے یا نہیں؟

Answer

نہ پہلے شیخ سے لا زم ہے اور نہ دوسرے شیخ سے لہذا دوسرے کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور دوسرے شیخ کی طرف رجوع کرنے کی چند وجوہات ہو سکتی ہے مثلاً اگر شیخ اول کو غیر متبع شرع پاوے یا انتقال ہو جاوے یا شیخ تو کا مل ہے لیکن کسی وجہ سے اس کو فائدہ نہیں ہو رہا ہے تو رجوع کرنا درست ہے ہاں بلا وجہ رجوع کرنا اچھا نہیں ہے ۔

تنقيح الفتاوى الحامدية
میں ہے:

سوال: رجل من الصوفية أخذ العهد على رجل ثم اختار الرجل شيخاً آخر وأخذ عليه العهد فهل العهد الاول لا زم أم الثاني؟
جواب: لا يلزمه العهد الاول ولا الثاني ولا أصل لذلك. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۳٦۹).

کفایت المفتی میں ہے:
کسی دوسرے سے اس وقت بیعت کرنا مناسب نہیں جب کہ پہلے سے بیعت ہو جاوے اور باوجود اس سے فائدہ پہنچنے کے دوسرے سے بیعت کی جائے ۔ (کفایت المفتی:
۲
/
۱۰۳
) ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
فقہا اور صوفیہ کے نزدیک دوسری جگہ بیعت کرنا ممنوع نہیں ہے ۔

قال الشيخ محمد بن عبد الله النقشبندي: وجوزوا التعدد، بل في حياة الشيخ الأول إذا رأى الطالب رشده في موضع آخر يجوز له من غير إنكار لشيخه الأول أن يذهب إليه ويأخذ عليه ويتخذه شيخاً ثانياً فيجوز استفادة التعليم والصحبة مع مشايخ متعددة وينبغي أن يعلم أن الشيخ هو الذي يدل المريد على الحق تعالى وأكثر ما يلاحظ هذا المعنى وأوضح في تعليم الطريقة وشيخ التعليم أستاذ الشريعة ودليل الطريقة الخ. (
فتاوی فریدیہ:
۱
/
۳۷٤
، مع الحاشیہ) ۔
شریعت و طریقت میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
اگر کوئی شخص ایک شیخ کی خدمت میں خوش اعتقادی کے ساتھ ایک معتد بہ مدت تک ر ہے مگر اس کی صحبت میں کچھ تاثیر نہ پائے تو اسے چاہیے کہ دوسری جگہ اپنا مقصود تلاش کرے کیونکہ مقصود خدا تعالی ہے نہ کہ شیخ لیکن شیخ اول سے بد اعتقاد نہ ہو ممکن ہے کہ وہ کا مل مکمل ہو مگر اس کا حصہ وہاں نہ تھا اسی طرح شیخ کا انتقال قبل حصول مقصود کے ہو جائے یا ملاقات کی امید نہ ہو جب بھی دوسری جگہ تلاش کرے اور یہ خیال نہ کر ے کہ قبر سے فیض لینا کا فی ہے دوسرے شیخ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ قبر سے فیض تعلیم نہیں ہو سکتا البتہ صاحبِ نسبت کو احوال کی ترقی ہوتی ہے سو یہ شخص ابھی محتاجِ تعلیم ہے ورنہ کسی کو بھی بیعت کی ضرورت نہ ہوتی لاکھوں قبریں کا ملین بلکہ انبیاء کی موجود ہیں اور بلا ضرورت محض ہو سنا کی سے کئی کئی جگہ بیعت کرنا بہت برا ہے اس سے بیعت کی برکت جاتی رہتی ہے اور شیخ کا قلب مکدر ہو جاتا ہے اور نسبت قطع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور ہرجائی مشہور ہو جاتا ہے ۔ (شریعت و طریقت ص
٤۹۰
) ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.