بیع بالوفاء کا طریقہ اور اس کا حکم:

14 min readFatwa Vol 5 #121Urdu

Question

اس ملک میں جب کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہوتا ہے تو اکثر و بیشتر وہ دوسری شادی کرتا ہے کبھی کبھی ۷۰/۷۵ سال کی عمر میں بھی شادی کرتا ہے، اور عام طور پر ٤۰/٤۵ یا 50 سال کی عورت سے شادی کرتا ہے بڑھاپے میں شوہر کے دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ میرے انتقال کے بعد میری بیوی میرے موجود ہ مکان میں نہیں رہ سکے گی، کیوں کہ سابقہ بیوی کی اولاد جو اس شوہر سے ہے وہ مکان میں سے اپنا اپنا حصہ لے لیگی، بیوی کا حصہ اس کے رہنے کے لیے نا کافی ہوگا، اگر شوہر بیوی کے لیے وصیتِ سکنی کرتا ہے تو وارث کے لیے وصیت نہیں ہوتی، اور اگر شوہر بیوی کو مکان ہبہ کرتا ہے تو اس میں شوہر اپنی اولاد کی حق تلفی سمجھتا ہے، کیوں کہ بیوی کے انتقال کے بعد مکان بیوی کے وارثوں کے پاس جائے گا، اور مرحوم کی اپنی اولاد محروم ہو جائے گی، اس صورت میں احناف کے مذہب پر رہتے ہوے ایسی کون سی صورت ہو سکتی ہے جس میں بیوہ با عزت مکان میں تا حیات رہے، اور اس کے انتقال کے بعد مکان وغیرہ شوہر کی اولاد کو مل سکے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل.

Answer

بصورتِ مسئولہ بیوی کے مکان میں رہنے کی ایک صورت عمری کے مسئلہ پر عمل کرنا ہے، یعنی اگر شوہر یہ کہ دے کہ جب تک بیوی زندہ رہے گی، وہ اس مکان سے فائدہ اٹھائے گی، تو امام مالک رحمه الله کے مذہب کے مطابق بیوی کو تا حیات اس مکان میں رہنے کا حق حاصل ہوگا ۔
بدایۃ المجتہد میں مرقوم ہے:

والقول الثاني أنه ليس للمعمر فيها إلا المنفعة فإذا مات عادت الرقبة للمعمر أو إلى ورثته وبه قال مالك وأصحابه. (بداية المجتهد: ۲/۲٤۸، القول في أنواع الهبات).

المغنی مع الشرح الکبیر میں ہے:

وقال مالك رحمه الله والليث رحمه الله: العمرى تمليك المنافع لا تملك بها رقبة المعمر بحال ويكون للمعمر السكنى فيه فإن مات عادت إلى المعمر. (المغني: ٦/۳۰٤. وكذا في الشرح الكبير: ٦/۲٦۵، بيروت).

امام قرطبی رحمه الله نے احکام القرآن میں فرمایا:

وأما العمرى فاختلف العلماء فيها على ثلاثة أقوال: أحدها أنها تمليك لمنافع الرقبة حياة المعمر مدة عمره فإن لم يذكر عقباً فمات المعمر رجعت إلى الذي أعطاها أو لورثته، هذا قول القاسم بن محمد رحمه الله ويزيد بن قسيط رحمه الله والليث بن سعد رحمه الله، وهو مشهور مذهب مالك رحمه الله، واحد اقوال الشافعي رحمه الله. (الجامع لا حكام القرآن: ۹/۳۹، سورة هود).

مذہبِ احناف میں عمری کی کوئی ایسی صورت موجود نہیں جس میں بیوی تا حیات فائدہ اٹھاتی رہے اور اس کی وفات کے بعد پراپرٹی شوہر کے وارثوں کو مل جائے، مذہب احناف کے دائرہ میں رہتے ہوے عمری پر عمل کرنے کی صورت میں مکان کی واپسی نہیں ہو سکتی ۔
ہاں احناف کے ہاں بیع بالوفاء کی صورت ہو سکتی ہے ۔
بیع بالوفاء یہ ہے کہ بائع مشتری سے کہ دے کہ یہ چیز میں آپ کے ہاتھ بیچتا ہوں، خاص متعین وقت پر یا جب بھی میں ثمن واپس کر دوں یا میرے ورثاء ثمن واپس کر دیں تو آپ مبیع واپس کریں گے، (یہ بیع سے پہلے یا بیع کے بعد وعدہ کی صورت میں ہو، شرط لگانا اچھا نہیں ہے ۔) اس صورت میں بیوی کی وفات کے بعد اس کے ورثاء مکان واپس کریں گے، اور شوہر کے ورثاء اس کا ثمن واپس کر دیں گے ۔
بیع بالوفاء کے جواز اور عدم جواز میں بہت اختلاف ہے لیکن احناف کے ہاں ایک قول جواز کا بھی ہے ان مشکلات کے دور میں بلا تردد اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے ۔
معجم لغۃ الفقہاء میں مذکور ہے:

أن يبيع السلعة للمشتري بالذي له عليه من الدين على أنه متى قضاه الدين عادت إليه السلعة. (معجم لغة الفقهاء، ص ۱۳۷).

القاموس الفقہی میں ہے:

بيع الوفاء عند الحنفية هو: أن يقول البائع للمشتري: بعت منك هذا الشيء بما لك على من الدين على أني متى قضيت الدين فهو لي، وهو: أن يبيعه العين على أنه إذا رد عليه الثمن رد عليه العين ويسمى أيضاً بيع الطاعة. (القاموس الفقهي، ص ۳۸٤، حرف الواو، دمشق).
معجم المصطلحات
میں ہے:

بيع الوفاء في اللغة: عرف الحنفية البيع بشرط أن البائع متى رد الثمن يرد المشتري المبيع إليه. ويسمى بيع الثنيا عند المالكية، والعهدة عند الشافعية والأمانة عند الحنابلة، ويسمى أيضاً بيع الطاعة، وبيع الجائز، وسمى في بعض كتب الحنفية بيع المعاملة. (معجم المصطلحات: ۱/٤۱٦).

شرح مجلہ میں ہے:

وإذا اتفق المشتري مع البائع على أنه يرد له المبيع إذا رد له مثل الثمن في وقت كذا ثم جاء الوقت وامتنع البائع عن رد مثل الثمن فإنه يؤمر ببيع المبيع وقضاء الثمن من ثمنه فإن أبي باعه الحاكم عليه. (شرح المجلة، ص ۲۲۳، للبناني، فصل في بيع الوفاء، المادة: ۳۹٦).

فتاوی شامی میں ہے:

حتى لم يملك المشتري بيعه من آخر ولا رهنه. (فتاوى الشامي: ۵/۲۷۷، مطلب في بيع الوفاء، سعيد).

تبیین الحقائق میں ہے:

ومن مشايخ سمرقند من جعله بيعاً جائز اً مفيداً بعض أحكامه منهم الإمام نجم الدين النسفي، فقال: اتفق مشايخنا في هذا الزمان فجعلوه بيعاً جائز اً مفيداً بعض أحكامه وهو الانتفاع به دون البعض وهو البيع، لحاجة الناس إليه ولتعاملهم فيه والقواعد قد تترك بالتعامل وجوز الاستصناع لذلك، وقال صاحب النهاية وعليه الفتوى

وعندهما هذا البيع عبارة عن بيع غير لازم فكذلك وإن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكر الشرط على وجه الميعاد جاز البيع ويلزمه الوفاء بالميعاد لأن المواعيد قد تكون لا زمة. (تبيين الحقائق: ۵/۱۸۳، كتاب الإكراه، ملتان).

ملا علی قاری رحمه الله شرح النقایہ میں تحریر فرماتے ہیں:

وتلفظا بتلفظ البيع بشرط الوفاء أو بالبيع الجائز

وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه الميعاد جاز البيع ويلزمه الوفاء بالميعاد لأن المواعيد قد تكون لا زمة، قال رسول الله ﷺ: "العدة دين" فيجعل هذا الميعاد لا زماً لحاجة الناس إليه

وصورته: أن يقول البائع للمشتري: بعت منك هذه العين بألف درهم على أني لو دفعت إليك ثمنك تدفع العين إلى ثم قال ويسمى هذا بيع الوفاء وهذا البيع موجود في المصر يتعامل به ويسمونه بيع الأمانة. (شرح النقاية: ۳/۲۵۳، قبيل فصل الإقالة، بيروت).

علامہ ابن البزاز الکردری فرماتے ہیں:

وفي فوائد البرهان: تبايعا مطلقاً ثم ألحقا الوفاء يلتحق عند الإمام كإثبات الشرط المفسد وإسقاطه إذا لم يكن قوياً

وأجبر على الرد إذا أحضر الدين

وجعلناه كذلك لحاجة الناس إليه فراراً من الربا. (الفتاوى البزازية بهامش الهندية: ٤/٤۰۸، نوع فيما يتصل بالبيع الفاسد).
فتاوى قاضيخان
میں ہے:

وإن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكر الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزمه الوفاء بالوعد لأن المواعدة قد تكون لا زمة فتجعل لا زمة لحاجة الناس. (فتاوى قاضيخان بهامش الهندية: ۲/۱٦۵، فصل في الشروط المفسدة).

در مختار میں ہے:

صح بيع الوفاء في العقار استحساناً واختلف في المنقول. وفي الشامية: وصح في العقار باستحسان بعض المتأخرين. (فتاوى الشامي: ۵/۲۷۹، سعيد).

پھر اگر عاقدین میں سے ایک کا انتقال ہو جائے تو مبیع کی واپسی میں ان کے ورثاء ان کے قائم مقام ہوتے ہیں ۔
شرح مجلہ میں مرقوم ہے:

إذا مات أحد المتبايعين وفاء انتقل حق الفسخ للوارث. (شرح المجلة، للبناني، ص ۲۲٦).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

إذا باع باتاً أو وفاء

فورثته يقومون مقامه في أحكام الوفاء. (الفتاوى البزازية: ٤/٤۱۱).

در مختار میں ہے:

ولو باعه المشتري فللبائع أو ورثته حق الاسترداد وأفاد في الشرنبلالية أن ورثة كل من البائع والمشتري تقوم مقام مورثها نظراً لجانب الرهن. (الدر المختار: ۵/۲۷۸، سعيد).

فتاوی بزازیہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ یہ بیع بعض احکام میں بیع فاسد کی طرح ہے اور بعض میں بیع صحیح کی طرح ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو:

هذا البيع فاسد في حق بعض الأحكام حتى ملك كل منهما الفسخ وصحيح في حق بعض الأحكام حتى لم يملك الشاري بيعه من آخر ولا رهنه. (الفتاوى البزازية: ٤/٤۰۹، نوع فيما يتصل بالبيع الفاسد).

حضرت مولانا مفتی تقی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
متاخرین حنفیہ نے بھی چند مسائل میں وعدہ کو قضاء لازم قرار دیا ہے، جیسے بیع الوفاء کے مسئلہ میں ۔ (ہاؤس فائننسنگ کا شرعی طریقہ، ص۱۷ ۔ و غیر سودی بنکاری، ص۲٤۲ ۔ ۲۵٤، بیع بالوفاء) ۔
خانقاہ تھانہ بھون کے مفتی پاکستان کے شیخ الاسلام حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله امداد الاحکام میں تحریر فرماتے ہیں:
اور بیع بالوفاء کی ایک صورت یہ ہے کہ ایجاب و قبول بیع و شراء کا ہو اور ایجاب و قبول میں کوئی شرط واپسی وغیرہ کی نہ ہو بلکہ بعد ایجاب و قبول کے شرط رد وغیرہ کی کی جاوے، یہ بالاتفاق جائز ہے،
لخلو العقد عن الشرط
، اور جب زبانی ایجاب و قبول میں متصلاً شرط نہ ہو تو بیع نامہ میں متصلاً شرط کے لکھنے سے حرمت نہ آئے گی،
لأن الأصل في العقود القول والكتابة وثيقة، والله أعلم، حرره الأحقر ظفر أحمد عفي عنه. (
امداد الاحکام:
۳
/
٤۳۵
) ۔
اس فتوی پر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کے دستخط بھی ہے ۔
حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ اگر ایجاب و قبول میں واپسی کی شرط نہ ہو پھر وثیقہ میں لکھا جائے تو یہ بالکل درست ہے، ہاں وثیقہ کی وجہ سے اس کی واپسی لازم ہو گی کیوں کہ واپسی کا وعدہ پورا کرنا لازم ہے، لہذا اگر شوہر اپنی بیوی کو وہ مکان فروخت کر دے اور الفاظ بیع میں واپسی کی شرط نہ ہو، بلکہ تحریر میں واپسی کی شرط کی جائے تو اس صورت کا جواز بے غبار ہے بیع کی صورت میں عاقدین ثمن کم مقرر کریں اور بیوی کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کو ثمن دے دیا جائے ۔
حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله نے سابقہ عبارت میں بیع بالوفاء کی اس شکل کو جائز فرمایا جس کے ایجاب و قبول میں کوئی شرط نہ ہو، دوسری جگہ ضرورت کی وجہ سے بیع بالشرط کو بھی جائز فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
بیع بالوفاء کی تعریف یہ ہے کہ اس شرط کے ساتھ بیع کرنا کہ مشتری جس وقت زر ثمن بائع کو واپس کر دے بائع کو مبیع کا واپس کرنا ضروری ہوگا، اس طرح بیع کرنا اصول شرعیہ کے لحاظ سے دراصل ناجائز ہے،
فقد نهى رسول الله ﷺ عن بيع وشرط. (رواه الطبراني بطريق أبي حنيفة رحمه الله وذكره عبد الحق في أحكامه وسكت عنه وأعله ابن القطان بأبي حنيفة رحمه الله كذا في التخريج للزيلعي رحمه الله، قلت: وإعلاله رد عليه فليس مثل أبي حنيفة رحمه الله يعل به).

مگر چونکہ بیع بالشرط کے ناجائز ہونے میں ائمہ کا اختلاف ہے چنانچہ امام شافعی رحمه الله کے نزدیک بعض صورتوں میں بیع بالشرط جائز ہے، اور ابن ابی لیلی اور ابن شبرمہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ بیع بالشرط جائز ہے اس لیے فقہاءِ متاخرین نے ضرورت کی وجہ سے بیع بالوفاء کو جائز کر دیا ہے تاکہ اس طرح سود سے تو بچا رہے ۔ (امداد الاحکام:
۳
/
٤۲۸
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کے ہاتھ مکان کی بیع کر دے تو یہ جائز اور درست ہے، پھر اس کی بیع بالوفاء بنانے کی دو صورتیں ہیں ۔ (۱) زبانی ایجاب و قبول کے بعد تحریر میں یا زبانی طور پر یہ ظاہر کر دے کہ جب مکان کی قیمت واپس کر دی جائے پھر اس کی کئی صورتیں ہیں، (الف) وقت متعین کر دیا جائے مثلاً ۲۰ سال کے بعد ثمن واپس کر دیا جائے تو مکان بھی واپس ہو جائے گا ۔ (باء) جب بھی ثمن واپس کر دیا جائے تو مکان بھی واپس کر دیا جائے یہ صورت ہمارے مذکورہ مسئلہ کا حل نہیں بن سکتی ۔ (ج) جب بیوی کا انتقال ہو جائے تو ثمن واپس ہونے کی صورت میں مکان شوہر کے وارثوں کو واپس کر دیا جائے، یاد رہے کہ وارثوں میں بیوی بھی شامل ہے ۔ لکونہ کالرھن ۔
(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ ایجاب و قبول ہی کے اندر واپسی کی شرط لگائی جائے اس کو بھی کافی حضرات مشائخ نے ضرورت کی وجہ سے درست قرار دیا ہے، اور بعض حضرات ناجائز کہتے ہیں لہذا اس صورت سے احتراز ہی مناسب ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.