حقِ شرب کو فروخت کرنے کا حکم:
Question
نہر سے کھیت کو سیراب کرنے کے لیے پانی کی فروخت کا کیا حکم ہے؟ عام طور پر لوگ اس کو خریدتے ہیں، جب کی حدیث شریف: "
الناس شركاء في ثلاث الماء والكلأ والنار"
کے خلاف ہے؟
Answer
کھیت وغیرہ میں جو پانی استعمال کیا جاتا ہے وہ عامۃً حکومت کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے اور حکومت اس پانی کو مختلف جگہوں سے جمع کر کے اپنے تالاب (reservoir) میں جمع کرتی ہے اس حوض کی قیمت لاکھوں سے متجاوز ہوتی ہے، پھر اس میں صرف اس صاف پانی کو رکھا جاتا ہے جس کو کیمیکلز (chemical) کے ذریعہ سے صاف کیا جاتا ہے، لہذا ان بنیادی وجوہات کی بنا پر اس پانی کو فروخت کرنے کی اجازت ہو گی، کیوں کہ علماء نے اس کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص پانی کو اپنے حوض میں جمع کرے اور وہ حوض مجصص ہو تو وہ پانی کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اس کو بیچ سکتا ہے ۔
ملاحظہ فرمائے عالمگیری میں ہے:
وأما بيع ماء جمعه الإنسان في حوضه، ذكر شيخ الإسلام المعروف بـ خواهر زاده في شرح كتاب الشرب: إن الحوض إذا كان مجصصاً أو كان الحوض من نحاس أو صفر جاز البيع على كل حال وكأنه جعل صاحب الحوض محرز الماء بجعله في حوضه. (الفتاوى الهندية، باب بيع الماء، ۳/۱۲۱. وكذا في المحيط البرهاني، فصل فيما يجوز وما لا يجوز، ٦/۳٦۹).
بدائع الصنائع میں ہے:
وكذا السقاءون يبيعون المياه المحروزة في الظروف به جرت العادة في الأمصار وفي سائر الأعصار من غير نكير فلم يحل لأحد أن يأخذ منه فيشرب من غير إذنه. (بدائع الصنائع: كتاب الشرب، ٦/۱۸۸، سعيد).
لیکن جو پانی دریاؤں سے نہروں کی شکل میں نکالا جاتا ہے اس کے لیے کوئی ڈیم نہیں ہوتا جن کی کھدائی اور صفائی کا انتظام حکومت کرتی ہے اس پانی کا بیچنا بھی حکومت کے لیے جائز اور درست ہے، نیز یہ بیع الشرب کے قبیل سے ہے اس کی بیع جائز ہے جب کے اس کی مقدار معلوم ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اس میں کتنا پانی بہے گا، اور مقدار معلوم نہ ہو لیکن مفضی الی النزاع نہیں تو یہ تعامل کی وجہ سے جائز ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
قوله ولا بيع مسيل الماء، هذا أيضاً يحتمل بيع رقبة المسيل وبيع حق التسييل
وأما المسيل فمجهول لأنه لا يدري قدر ما يشغله من الماء، قال في الفتح: ومن هنا عرف أن المراد ما إذا لم يبين مقدار الطريق والمسيل، أما لو بين حد ما يسيل فيه الماء أو باع أرض المسيل من نهر أو غيره من غير اعتبار حق التسييل فهو جائز بعد أن يبين حدوده. (فتاوى الشامي: ۵/۷۹، مطلب في بيع المسيل، سعيد. وكذا في فتح القدير: ٦/٤۲۹، دار الفكر).
وفي العناية في شرح الهداية: بخلاف الشرب حيث يجوز بيعه تبعاً للأرض باتفاق الروايات، ومفرداً في رواية وهو اختيار مشايخ بلخ رحمه الله لأنه حظ من الماء لوجوب الضمان بالإتلاف فإن من سقي أرض نفسه بماء غيره يضمن، ولأن له حظاً من الثمن ذكره في كتاب الشرب
وإنما لم يجز بيع الشرب وحده في ظاهر الرواية للجهالة لا باعتبار أنه ليس بمال. (شرح العناية بهامش فتح القدير: ٦/٤۲۸، دار الفكر).
وقال المحقق ابن همام رحمه الله: جوزه مشايخ بلخ رحمه الله
لأن أهل بلخ تعاملوا ذلك لحاجتهم إليه، والقياس يترك بالتعامل كما جوز السلم للضرورة والاستصناع للتعامل. (فتح القدير: ٦/٤۲۸، باب البيع الفاسد، دار الفكر).
مبسوط میں ہے:
قال وكان شيخنا الإمام يحكي عن أستاذه أنه كان يفتي بجواز بيع الشرب بدون الأرض ويقول فيه عرف ظاهر في ديارنا بنسف فإنهم يبيعون الماء فللعرف الظاهر كان يفتي بجوازه. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱٤/۱۳٦، باب الشفعة في الأرضين والأنهار، إدارة القرآن. وكذا في ۲۳/۱۷۱).
فتاوی سراجیہ میں ہے:
بيع الشرب تبعاً للأرض جائز، مقصوداً كذلك في رواية، وبه أخذ مشايخ بلخ رحمه الله. (الفتاوى السراجية، ص: ٤۱۵، كتاب البيوع باب ما يجوز بيعه ومالا يجوز).
مزید ملاحظہ ہو: (
شرح المجلة، لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۱۲۱.
و جدید فقہی مباحث، جلدِ سوم
).
اشکال اور جواب:
اشکال: لیکن اگر کوئی اشکال کرے کہ تعامل کی وجہ سے تو قیاس چھوڑا جاتا ہے لیکن نص و حدیث نہیں چھوڑی جاتی، یہاں تو ممانعت کی نص موجود ہے اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: اس کے جواب کی طرف صاحبِ ہدایہ نے اشارہ فرمایا ہے کہ یہ بیع الماء نہیں ہے بلکہ بیع حظ الماء ہے، یعنی پانی کا ایک حصہ الگ کیا جاتا ہے اور اس کے لیے انتظام اور کھدائی کی جاتی ہے اور ایک پائپ لگایا جاتا ہے پھر اس پائپ کا معاوضہ لیا جاتا ہے تو یہ پانی خود بخود جمع نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے انتظام کیا گیا ہے تو یہ نہری انتظام کے حق کا عوض لیا گیا ہے جو کہ جائز ہے حدیث شریف سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1992
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1992