حق تصنیف پر معاوضہ لینے کا حکم:
Question
حق تصنیف پر معاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ عام طور پراس کی تین صورتیں ہوتی ہیں: (۱) ناشر یا مطبع کسی موضوع پر کام کا پروجکٹ تیار کرے اور اس کے لیے اسکالرز کی خدمات حاصل کرے، نیز ان کا کوئی معاوضہ طے کر دیا جائے، جواس تصنیف و تالیف، ترتیب و تحقیق یا کسی علمی کام کے بدلے دیا جائے، یہ طریقہ زیادہ تربین الاقوامی شہرت یافتہ مطابع اور ناشرین کے درمیان مروج ہے ۔
(۲) مصنف کتاب کا حق اشاعت ناشر کو دے دے، البتہ ان کے درمیان یہ معاہدہ طے پائے کہ کتاب کے ہر نئے ایڈیشن کی طباعت پر ناشر ایک متعینہ رقم مصنف کو ادا کیا کرے گا، اس کو رائلٹی (Royalty) کہتے ہیں ۔
(۳) مصنف ہمیشہ کے لیے کتاب کا حق اشاعت ناشر یا مطبع کے ہاتھوں خطیر رقم کے عوض فروخت کر دیتا ہے، اس طرح کتاب کی طباعت و اشاعت کے تمام حقوق مصنف کے بجائے ناشر یا مطبع سے وابستہ ہو جاتے ہیں، البتہ ان صورتوں میں ناشر اخلاقاً اور قانوناً اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ اصل کتاب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اور حذف و اضافہ سے گریز کرے ۔ ان صورتوں میں سے شرعاً کون سی جائز ہے اور کون سی ناجائز ؟
Answer
حق تصنیف پر معاوضہ لینا جائز ہے ۔ سوال میں ذکر کردہ صورتوں میں سے پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ اس کے جواز میں کوئی کلام نہیں ہے، اس کا حکم وہی ہے جو امامت اور درس و تدریس کے معاوضہ کا ہے، نیز وہ تصنیف ناشر یا مطبع کی ملکیت ہو گی کیوں کہ اس نے اس عمل کی اجرت ادا کی ہے ۔
(۲) اور (۳) کے بارے میں پہلے اہل علم کا اختلاف رہا ہے ابتداءً اکثر علماء اسے ناجائز کہتے تھے، مگر فی زماننا زیادہ تر علماء کا رجحان جواز کی طرف ہے اور عام طور پر حق تصنیف و تالیف کو درج ذیل وجوہات کی بنا پر مصنف کا حق تسلیم کیا جاتا ہے ۔
(۱) موجود ہ عرف میں "حق تالیف" وغیرہ کے ساتھ مال جیسا معاملہ کیا جاتا ہے، بازار میں اس کی خرید و فروخت اعلی پیمانے پر رائج ہے ۔ اور کسی شے کو مال شمار کرنے کے لیے لوگوں کے تعامل کا بڑا دخل ہے، جس کی تفصیلات گزر چکی ۔
(۲) فقہاء نے قرآن و حدیث اور فقہ وغیرہ کی تعلیم پر اجرت لینے کی اجازت دی ہے، اور اس کی جو علت بیان کی ہے وہ یہاں بھی پائی جاتی ہے، مثلاً مصلحت کی بنیاد پر کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ متاثر ہو جائے گا، اسی طرح اگر بیش بہا محنت و مشقت کے باوجود یہ حق مصنف کونہ دیا جائے، تو اس کی حوصلہ شکنی ہو گی، کیوں کہ مصنف اس کام میں اپنا اچھا خاصا وقت اور دماغی و فکری طاقت صرف کرتا ہے، نیز دین کی حفاظت و اشاعت اور تحقیق کا کام بھی متاثر ہو سکتا ہے، پس یہ ایسی مصلحت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
(۳) یہ حق اسبقیت ہے جو کہ شریعت کی نگاہ میں معتبر ہے ۔ ابو داود شریف کی روایت میں ہے: "
من سبق إلى ما لم يسبقه إليه مسلم فهوله". (رواه البيهقي في سننه الكبرى: ٦/۱٤۲، كتاب إحياء الموات. وأبو داود: ۲/٤۳۷، باب في اقطاع الأرضين).
(٤) کسی شے کو مال قرار دینے کے لیے اس کا قابل احراز یعنی حفاظت کیے جانے کے لائق ہونا ضروری ہے، اور مذکورہ حقوق کا احراز قانونی طور پر رجسٹری کے ذریعہ ہو جاتا ہے ۔
(۵) مال کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ قابل انتفاع ہو، اور اس حق سے وافر مقدار میں فائدہ اٹھایا جاتا ہے ۔
(٦) ان حقوق کو قانونی حیثیت دینے کے لیے محنت و مشقت کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے لہذا ان کو کسب کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے ۔
مزید ملاحظہ ہو: (حقوق اور ان کی خرید و فروخت، ص
۲۰۸
۔
۲۱۵
۔ و جدید فقہی مسائل:
٤
/
۱۷۸
۔
۱۸٤
۔ فقہی مقالات:
۱
/
۲۲۳
۔
۲۲۷
۔ و عطر ہدایہ، ص
۳٤۳
۔
۳٤٤
۔ و جدید فقہی مباحث، جلدِ سوم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1996
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1996