ایصالِ ثواب پر اجرت لینے کا حکم:
Question
ایک بستی کے باشندوں میں سے بہت کم لوگ قرآن خواں ہیں، بستی میں جب کسی آدمی کا انتقال ہوتا ہے تو میت کے رشتہ دار کسی حافظ صاحب کو معاوضہ دے کر قرآن شریف برائے ایصالِ ثواب ختم کراتے ہیں، کیا حافظ صاحب کے لیے اس معاوضہ کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کیا حافظ صاحب ایک قرآن شریف پڑھ کر متعدد اموات کو ایصالِ ثواب کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
قرآن شریف پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنے پر اجرت لینا دینا جائز نہیں ہے، ایصالِ ثواب بذاتِ خود ایک مستحسن اور اچھا کام ہے، میت کے رشتہ دار کو چاہیے کہ خود جتنا پڑھ سکتے ہیں قرآن یا اذکار وغیرہ پڑھ کر میت کو ایصالِ ثواب کر دے، پورا قرآن پڑھنا یا پڑھوانا ضروری نہیں ہے ۔
علامہ شامی رحمه الله نے اس پر ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے: "
شفاء العلى ل وبل الغليل في حكم الوصية بالختمات والتّهاليل"
اس میں آپ نے اس مسئلہ پر بالتفصیل کلام فرمایا ہے، عدمِ جواز پر چند احادیث پیش فرمائی مثلاً ۔
(
۱) قال رسول الله ﷺ اقرئوا القرآن ولا تأكلوا به ولا تجفوا عنه ولا تغلوا فيه ولا تستكثروا به. (رواه إسحاق في مسند ه وعبد الرّزاق في مصنّفه)
(۲) حديث عبادة بن الصّامت، وذكر فيه تعليم عبادة بعض الصحابة القرآن وإهداء رجل منهم إليه قوسا، ولما سئل النبي ﷺ عن ذلك قال: إن أردت أن يطوّقك الله طوقاً من النار فاقبلها. وكذا قصة أبي بن كعب رضي الله عنه في ذلك.
اس رسالہ میں بہت سی فقہی کتب اور فتاوی سے نقل کیا گیا ہے کہ تلاوتِ مجردہ پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، مثلاً
كتاب الكراهية من الخلاصة
،
فتاوى قاضي خان، مجمع الأنهر. الفتاوى البزازية.
رسائل ابن عابدین میں ہے:
وقال الشيخ الرّملي على هامش البحر: المفتى به جواز الأخذ استحساناً على تلاوة القرآن لا على القراءة المجردة كما في التاتارخانية. (رسائل ابن عابدين: ص ۱٦۸)
محیطِ برہانی میں ہے:
إذا أوصي أن يدفع إلى إنسان كذا من ماله كذا ليقرء القرآن عند قبره فهذه الوصية باطلة وهي بدعة ولم يفعلها أحد من الخلفاء رضي الله تعالى عنهم. (المحيط البرهاني: ۲۳/۳۹)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
یہ لینا بھی ناجائز دینا بھی ناجائز ہے،
قال تاج الشريعة في شرح الهداية: ان القرآن بالأجرة لا يستحق الثواب لا للميت ولا للقاري. (
فتاوی محمودیہ: ۹/ ۲۱٦، مبوب و مرتب)
کفایت المفتی میں ہے:
ایصالِ ثواب کے لیے قرآن مجید پڑھوانا، اور اس کے معاوضہ میں پڑہنے والوں کو کچھ دینا جائز نہیں، ہاں اگر بطورِ تبرع کے دے دیا جائے تو مباح ہے، مگر شرط یہ ہے کہ نہ دینے پر پڑھنے والا دل تنگ نہ ہو اور شکایت نہ کرے ۔ (کفایت المفتی: ٤ / ۱۳۵، فصل دوم، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/885
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-885