حکومت کے مقرر کردہ بھاؤ کے خلاف کرنسی فروخت کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #146Urdu

Question

اگر حکومت کے مقرر کردہ بھاؤ سے زائد یا کم پر رینڈ کو ڈالر کے عوض بیچ آ جائے تو کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ نفس جواز میں تو کوئی کلام نہیں ہے، اس لیے کہ خلافِ جنس کی بیع کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے، البتہ حکومت کے قانون کی خلاف ورزی لازم آئے گی، اور عزتِ نفس ضروری ہے اگر عزت کا خطرہ ہو تو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے، اور چند کوڑیوں کے لیے عزت نفس کو خطرہ میں ڈالنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو فقہی مقالات میں ہے:
حکومت کے مقرر کردہ بھاؤ کی مخالفت کرتے ہوے کمی زیادتی کے ساتھ تبادلہ کرنے میں سود لازم نہیں آئے گا اس لیے کہ دونوں کرنسیاں جنس کے اعتبار سے مختلف ہیں اور مختلف الاجناس کے تبادلہ میں کمی زیادتی جائز ہے اور اس کمی زیادتی کی شرعاً کوئی حد مقرر نہیں بلکہ یہ فریقین کی باہمی رضامندی پر موقوف ہے، البتہ اس پر تسعیر کے احکام جاری ہوں گے، لہذا جن فقہاء کے نزدیک حکومت کی طرف سے اشیاء میں تسعیر جائز ہے، کرنسی میں بھی جائز ہو گی لہذا اس کے لیے حکومت کے اس حکم کی مخالفت کرنا تو جائز نہیں (بشرطیکہ اسلامی حکومت ہو اور اسلامی اصول کی پابند ہو آج کل کی حکومتوں کی طرح نہ ہو) لیکن دوسری طرف اس زیادتی کو سود کہہ کر حرام کہنا بھی درست نہیں ۔ (فقہی مقالات: ۱/٤۰) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱٤۸، فاروقیہ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۲۲ ۔ و کفایت المفتی: ۷/۳۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.