بیرونی ملک کی کرنسی کی تجارت کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #147Urdu

Question

بیرونی ملک کی کرنسی (foreign currency) کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟ اگر کوئی مسلمان یہ تجارت کرتا ہے اور دوسرے مسلمانوں کو اس تجارت میں (investment) یعنی پیسہ لگانے کی دعوت دیتا ہے تو اس کو حلال جگہ میں پیسہ لگانا کہا جائے گا یا نہیں؟

Answer

بیرونی ملک کی کرنسی (foreign currency) کی خرید و فروخت جائز ہے اور اس میں تفاضل بھی جائز ہے اس لیے کہ مختلف ممالک کی کرنسیاں مختلف الجنس کہلاتی ہیں، اور فی زماننا کرنسی نوٹ ثمن حقیقی نہیں ہے بلکہ ثمن عرفی ہے، لہذا یہ کاروبار جائز اور درست ہے، بنا بریں اس کاروبار میں (investment) یعنی پیسہ لگانا بھی درست ہوگا، اور یہ پیسہ لگانا حلال جگہ میں ہوگا ۔
مسئلہ مذکورہ بالا کے دلائل بالتفصیل پیچھے گزر چکے ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.