لقطہ اور ربا کا مصرف تقریباً ایک ہے:

6 min readFatwa Vol 5 #180Urdu

Question

بینک کے ربا کا مصرف اور لقطہ کا مصرف ایک ہے یا جدا ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ دونوں کا مصرف تقریباً ایک ہے، بظاہر کوئی فرق نہیں ہے، مثلاً لقطہ غیر مسلم فقراء کو دینا جائز ہے اسی طرح سود کی رقم بھی دے سکتے ہیں، لقطہ میں تملیک ضروری نہیں ہے، رفاہِ عام میں، مردوں کے کفن دفن میں صرف کرنا جائز ہے، اسی طرح بعض علماء کے نزدیک ربا میں بھی تملیک ضروری نہیں ہے، گویا ربا اور لقطہ دونوں واجب التصدق ہے لیکن واجب التملیک نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ورابعها الضوائع مثل مالا يكون له أناس وارثونا
فمصرف الأولين أتي بنص وثالثها حواه مقاتلونا
ورابعها فمصرفه جهات تساوي النفع فيها المسلمونا

علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

قوله الضوائع: جمع ضائعة أي اللقطات

وقوله ورابعها فمصرفه جهات، موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوىة عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضي والزمني واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك، ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر، وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط والفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطي منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۲/۳۳۸، باب العشر، سعيد).

محیط برہانی میں ہے:

اللقطات والتركات تصرف إلى ما فيه صلاح المسلمين، كمال الخراج والجزية إلا أنه يجعل لها بيت على حدة، لما أنه ربما يظهر لها مستحق بعينها. وقال: الخراج والجزية تصرف إلى المقاتلة، وإلى سد ثغور المسلمين، وبناء الحصون في الثغور وإلى مراصد الطريق في دار الإسلام ليقع الأمن عن قطع الطريق من جهة اللصوص، وإلى كري الأنهار العظام الذي فيه صلاح المسلمين، وإلى من فرغ نفسه لعمل المسلمين نحو القضاة والمحتسب والمفتين والمؤذنين والمعلمين وإلي عمارة المساجد والقناطر وإلى معالجة المرضي إذا كانوا فقراء وإلي تكفين الموتى الذين لا مال لهم وما أشبه ذلك، والحاصل: أن هذا النوع يصرف إلى ما فيه صلاح الدين وصلاح دار الإسلام والمسلمين. (المحيط البرهاني: ۲/٦۲۳، الفصل السابع في تعجيل الخراج).

البحر الرائق میں ہے:

والرابع اللقطات والتركات التي لا وارث لها وديات مقتول لا ولي له قالوا: مصرفه اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم يعطون منه نفقتهم وأدويتهم ويكفن به موتاهم. (البحر الرائق: ۵/۱۲۸، فصل في الجزية، وكذا في تبيين الحقائق: ۳/۲۸۳).
وفي الفتاوى الهندية: والرابع اللقطات هكذا في محيط السرخسي وما أخذ من تركة الميت الذي مات ولم يترك وارثاً أو ترك زوجاً أو زوجة وهذا النوع يصرف إلى نفقة المرضي وأدويتهم وهم فقراء وإلى كفن الموتى الذين لا مال لهم. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۱، باب في صدقة الفطر. وكذا في مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر: ۲/٤۸٦، في تقسيم القسمة، بيروت).

فتاوی عثمانی میں ہے:
یہ بات تقریباً مسلّم ہے کہ کسبِ خبیث کا واجب التصدق ہونا اس بناء پر ہے کہ اس کا صحیح مالک یا تو معلوم نہیں یا اس تک پہنچانا متعذر ہے، لہذا وہ لقطے کے حکم میں ہو گیا، اور لقطے کا حکم یہ ہے کہ وہ واجب التصدق ہے، اور چونکہ فقہائے حنفیہ نے بیت المال کے مصارف ذکر کرتے ہوے لقطے کا مصرف صرف فقراء کو قرار دیا ہے، اس لیے اس سے یہ استنباط کیا گیا کہ زکوۃ کی طرح اس کی بھی تملیک ضروری ہے، لیکن یہ استنباط محلِ نظر ہے ۔
اول تو بعض فقہائے حنفیہ نے لقطے کو صرف فقراء کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اسے تمام مصالح مسلمین میں خرچ کرنے کو درست قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ شامی رحمه الله نے علامہ بزدوی رحمه الله سے نقل کیا ہے: "
أنه يصرف إلى المرضي والزمني

الخ.
الدر المختار میں علامہ ابن الشحنہ سے مصارف بیت المال سے متعلق جو اشعار منقول ہیں ان میں بھی یہی موقف اختیار کیا گیا ہے، البتہ علامہ شامی رحمه الله نے آگے اس پر اعتراض کیا ہے کہ عام کتابوں میں لقطے کا مصرف فقراء کو قرار دیا گیا ہے، چنانچہ علامہ شامی رحمه الله لکھتے ہیں:

"وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطي منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم".

بیت المال میں لقطے کے مصرف کے بارے میں اور بھی متعدد کتب میں یہی عبارت موجود ہے، لیکن اس عبارت پر غور کرنے سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر چہ فقہاء نے فقراء کو لقطے کا مصرف قرار دیا ہے، لیکن اس کے لیے تملیک ضروری نہیں قرار دی جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ فقیر اموات کی تکفین کو بھی لقطے کے مصرف میں شامل کیا گیا ہے حالانکہ میت کی تکفین میں تملیک متحقق نہیں ہوتی، اس سے معلوم ہوا کہ لقطہ تملیک کے بغیر بھی فقراء پر صرف کیا جا سکتا ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۱۳٦) ۔
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمه الله نے فرمایا کہ لقطہ کارِ خیر میں صرف کیا جا سکتا ہے، ملاحظہ ہو اشرف الاحکام میں ہے:
ایک صاحب ایک ٹکٹ لائے اور عرض کیا کہ جو ردی خطوط مجھ کو تلف کرنے کے لیے دیے ہیں، ایک لفافہ میں سے یہ ٹکٹ نکلا ہے کم ترین نے عرض کیا ایسے ٹکٹوں کا کیا حکم ہے؟ ارشاد فرمایا کہ یہ لقطہ ہے اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ جب مالک کا پتا چلنا متعذر ہو تو کسی کارِ خیر میں دے دیا جائے چنانچہ میں مدرسہ میں دے دیتا ہوں ۔ (اشرف الاحکام، ص ۱۹۷، بحوالہ حسن العزیز: ۳/٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.