میڈیکل ایڈ کا حکم:

22 min readFatwa Vol 5 #188Urdu

Question

کیا میڈیکل ایڈ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

میڈیکل ایڈ جو آج کل غیر مسلم ممالک میں رواج پذیر ہے عقدِ اجارہ کی حیثیت سے جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے کیوں کہ اس عقد کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک فریق مخصوص و متعین رقم دیتا ہے اور دوسرا فریق اس کے علاج کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، اس کے دو نظائر حسبِ ذیل درج ہیں: ۔
(۱) ہندوستان پاکستان کے قصبات و دیہات بلکہ شہروں میں یہ معاملہ صدیوں سے رائج ہے کہ حلاق، لوہار، بڑھئی وغیرہ لوگوں کے متعلقہ کام کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں اور لوگ ان کو فصل آنے پر فصلانہ یا کچھ رقم دیتے ہیں، یہ عمل افغانستان، ہند و پاک، دیوبند، تھانہ بھون، سہارنپور ہر جگہ رائج تھا، حلاق نے خاندان والوں کے بالوں کو درست کرنے کی ذمہ داری اٹھائی جو مجہول ہے، لیکن موجبِ نزاع نہیں، اور لوگ ان کو فصل آنے پر اناج یا کچھ رقم دیتے ہیں، میڈیکل ایڈ میں بھی ایک فریق علاج کی ذمہ داری لیتا ہے، دونوں میں عمل کی جہالت ہے جو سببِ نزاع نہیں ۔
ہدایہ میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو وکیل بنا دے کہ میری طرف سے مثلاً قتل عمد میں صلح کروا اور وکیل نے مصالحت کرالی تو مصالحت کی رقم وکیل پر لازم نہیں لیکن اگر وکیل نے اس رقم کی ذمہ داری قبول کی تو رقم لازم ہو گی پھر تحریر فرمایا: "
لأنه حينئذٍ مؤاخذ بعقد الضمان". (الهداية: ۳/۲۵۰، باب التبرع بالصلح والتوكيل به).

(۲) بچوں کے لیے دودھ پلانے والی کا رکھنا بالاتفاق جائز ہے اس میں بھی ایک فریق نے دودھ پلانے وغیرہ کی ذمہ داری لی اور دوسرا فریق تنخواہ یا اجرت دیتا ہے، دودھ پلانے کے اوقات سب مجہول ہیں، لیکن یہ جہالت سببِ نزاع نہیں لہذا بالاتفاق جائز ہے ۔
اشکال: البتہ ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ یہ علاج کی ذمہ داری اٹھانے والا فریق اجیر خاص ہے یا اجیر مشترک، اگر اجیر خاص ہو تو دوسرے لوگوں کی ذمہ داری کیسے لیتا ہے جب کہ اجیر خاص دوسروں سے کام نہیں لیتا:

"والخاص لا يمكنه أن يعمل لغيره لأن منافعه في المدة صارت مستحقة للمستأجر والأجر مقابل بالمنافع". (فتاوى الشامي: ٦/٦٤، باب ضمان الأجير، سعيد).

اور اگر اجیر مشترک ہو تو اجرت کا مستحق تب ہے جب کہ عمل کر لے اور میڈیکل ایڈ میں اس کو اجرت ملتی اگر چہ اس ماہ میں کام نہ کرے؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ بعض فقہاء نے اجیر خاص و اجیر مشترک کو بعض صورتوں میں جمع کیا ہے مثلاً مرضعہ اگر اپنے گھر پر بچے کو دودھ پلائے تو وہ اجیر خاص و اجیر مشترک دونوں ہیں، یعنی اس کو دودھ پلانے کی اجرت ملتی ہے اگر چہ وہ دوسرے بچوں کو دودھ پلائے ۔
فتح المعین شرح کنز میں ہے:

والحاصل أن المسائل في الظئر تعارضت فمنها ما يدل على أنها في معني أجير الوحد كقولهم لعدم الضمان في هذه، ومنها ما يدل على أنها في معني المشترك كقولهم إنها تستحق الأجر على الفريقين إذا أجرت نفسها لهما، قال الاتقاني: والصحيح أنه إن دفع الولد إليها لترضعه فهي أجير مشترك وإن حملها إلى منزله فهي أجير وحد وقال في العناية: وذكر في الذخيرة ما يدل على أنها يجوز أن تكون خاصاً ومشتركاً حتى لو أجرت نفسها لغيره استحقت الأجر على الفريقين كاملاً عملاً بشبه الأجير المشترك وتأثم نظراً إلى أن لها شبهاً بالأجير الخاص. (فتح المعين: ۳/۲۵٤، وكذا في فتاوى الشامي: ٦/۷۱، سعيد).
أقول: ويرتفع الإثم إذا كان الإذن بالعمل للغير.

اسی طرح میڈیکل ایڈ کمپنی علاج کرے یا نہ کرے کیوں کہ کسی ماہ علاج کی ضرورت نہ پڑی ہو گی اجیر خاص کی طرح مستحق اجر ہے اور دوسروں کے کام کو بھی قبول کر سکتی ہے ۔
دوسرا جواب: اجارہ سے ہٹ کر دوسرا جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ عقدِ موالات میں فقہاء ذکر فرماتے ہیں کہ اگر مولی اسفل جنایت کرے گا تو مولی اعلی کو دیت دینی پڑے گی اور اگر مولی اسفل کا انتقال ہو جائے تو مولی اعلی کو میراث ملے گی حالانکہ مولی اسفل کبھی جنایت ہی نہیں کرتا پھر بھی مولی اعلی کو میراث ملتی ہے کیوں کہ اس نے عقدِ ضمان کر لیا ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

(أسلم رجل) مكلف (علي يد آخر ووالاه أو) والي (غيره) الشرط كونه عجمياً لا مسلماً على ما مر وسيجيء (على أن يرثه) إذا مات (ويعقل عنه) إذا جني (صح) هذا العقد (وعقله عليه وإرثه له)

(الدر المختار: ٦/۱۲٦، فصل في ولاء الموالاة، سعيد).

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر میں ہے:

قال إبراهيم النخعي رحمه الله: إذا أسلم الرجل على يدي رجل ووالاه فإنه يرثه ويعقل عنه وهذا قول علمائنا الثلاثة

(حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۷۰، كوئته).

اس سے وہ اشکال بھی دفع ہو گیا کہ میڈیکل ایڈ میں رقم جمع کرانے والا اس مہینہ میں بیمار نہیں ہوا؟
جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ کمپنی جو عقدِ ضمان کی وجہ سے ہر ماہ وصول کرتی ہے اگر چہ رقم دینے والا بیمار نہ ہو پھر بھی اس رقم کا لینا درست ہے جیسا کہ عقدِ موالات میں مذکور ہوا کہ جنایت نہ کرنے کے باوجود میراث ملتی ہے اور فقہاء نے میراث کا لینا درست قرار دیا ہے ۔
اردو فتاوی میں مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمه الله نے میڈیکل ایڈ کے بارے میں عدمِ جواز کا مختصر جواب احسن الفتاوی میں دیا ہے جس کی عبارت درجِ ذیل ہے:
سوال: امریکہ میں میڈیکل علاج معالجہ کی سہولتیں پرائیویٹ اداروں کے سپرد ہیں الخ ۔
الجواب باسم ملہم الصواب: جائز نہیں ۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۲۵) ۔
ممکن ہے کہ حضرت مفتی صاحب رحمه الله نے عمل کی جہالت کی وجہ سے ناجائز لکھا ہو لیکن دوسرے مقامات پر مفتی صاحب نے عمل کی اس جہالت کو درست فرمایا جس سے نزاع پیدا نہ ہو، روٹی پکانے کی اجرت میں روٹی دینے کے بارے میں فرمایا: (۱) اجرت عمل سے ہے، (۲) اجرت مجہول ہے، دوسرے اشکال کا جواب یہ ہے کہ جہالتِ اجرت جب مفضیہ الی النزاع نہ ہو تو مفسدِ اجارہ نہیں ۔ واللہ اعلم ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۳۱۳) ۔
جو جہالت مفضیہ الی النزاع نہ ہو وہ مفسدِ عقد نہیں، اس بات کو اکثر فقہاء نے تحریر فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:

وأما شرائط الصحة ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوماً علماً يمنع المنازعة فإن كان مجهولاً جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۱).

حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمه الله نے ایک قیمتی بات فرمائی ہے:

إن الناس يعاملون في أشياء تكون جائزة فيما بينهم على طريق المروءة والإغماض، فإذا رفعت إلى القضاء يحكم عليها بعدم الجواز، فالاستقراض المذكور "أي استقراض البعير" عند عدم المنازعة جائز عندي، وذلك لأن العقود على نحوين: نحو: يكون معصية في نفسه وذا لا يجوز مطلقاً، ونحو آخر: لا يكون معصية وإنما يحكم عليه بعدم الجواز لا فضائه إلى المنازعة فإذا لم تقع فيه منازعة جاز. (فيض الباري: ۳/۲۸۹، كتاب الوكالة).

اس عبارت کا خلاصہ بھی یہ ہے کہ جب عقد معصیت پر مشتمل نہ ہو تو صرف جہالت کو سببِ فساد نہیں قرار دیا جا سکتا جب تک وہ نزاع پیدا نہ کرے ۔
علی احمد الندوی
"جمهرة القواعد الفقهية"
میں فرماتے ہیں:

الجهالة ليست بمانعة لذاتها، بل لكونها مفضية إلى النزاع، وهذا أصل مهم ينبغي التعويل عليه في الأحكام، فإن به حل كثير من المشكلات، وليعلم أن أحكام المعاملات الشرعية مبنية على أصلين عادلين:
الأول: منع كل ما فيه ظلم وأكل لا موال الناس بالباطل.
الثاني: منع ما يؤدي إلى الاختلاف والنزاع بسبب الجهالة، فإذا انتفي ما يؤدي إلى الظلم والنزاع بسبب الجهالة، صح التعامل، والعرف أصل عظيم يرجع إليه في ذلك بعد الشرع. (جمهرة القواعد الفقهية في المعاملات المالية: ۱/۳۱۹، تحت القاعدة: الجهالة إنما توجب الفساد إذا كانت مفضية إلى النزاع المشكل).

حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو جہالت نزاع کا سبب ہو وہ منع ہے اور جو جہالت نزاع کا سبب نہیں بنتی وہ منع نہیں ہے ۔ (
درس الهداية: الجزء الثالث، ص ۲۹).

آج کل لوگوں میں میڈیکل ایڈ کے ساتھ ملی جلی صورتیں رائج ہیں جن کو لوگ اپناتے چلے آ رہے ہیں مثلاً لوگ چوریوں اور ڈکیتیوں کی مصیبت سے بچنے کے لیے کسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کو ہر ماہ اتنی رقم دیں گے اور آپ ہماری سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں، پھر اگر کار وغیرہ چوری ہوتی ہے تو کمپنی اپنے آلات کے ذریعہ گاڑی معلوم کرتی ہے یا ریڈیو سے اعلان کراتی ہے اور گاڑی کو چور سے چھڑانے کی کوشش کرتی ہے، اس صورت میں بھی ادا شدہ رقم کے عوض جو سیکورٹی یا خدمت ملتی ہے وہ مجہول ہے پھر کبھی سالہا سال اس خدمت لینے کی نوبت نہیں آتی لیکن جھگڑا نہ ہونے کی وجہ سے اور سببِ نزاع نہ ہونے کی وجہ سے یہ بھی جائز ہے، میڈیکل ایڈ کا معاملہ بھی اسی طرح سمجھ لیجیے ۔
میڈیکل ایڈ کا ایک اور پہلو بھی ہے وہ یہ ہے کہ اس قسم کی کمپنیاں اکثر کاروباری نہیں ہوتیں صرف اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی حد تک منافع کی فکر کرتی ہیں اور اپنا کام احسان و تبرع سمجھتی ہیں، اور غالباً ان کے قوانین میں بھی یہ تحریر شدہ ہے کہ یہ امدادِ باہمی کی بنیاد پر چلتی ہیں، بنا بریں اس معاملہ کو تبرعِ مشروط میں بھی ہم داخل کر سکتے ہیں کہ کمپنی علاج کی امداد اور احسان کرتی ہے اور اس کے عوض اس کو کچھ رقم ادا کی جاتی ہے، تبرعِ مشروط کو فقہاء نے جائز قرار دیا ہے ۔
امداد الاحکام میں ایک مفصل سوال جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی کمپنی کسی دکاندار سے یہ معاملہ کر لے کہ اگر آپ نے ہماری کمپنی سے دس ہزار کا مال خریدا تو آپ کو تین سو روپے بطورِ انعام دیے جائیں گے، لیکن اگر آپ نے کسی دوسری کمپنی سے ایک مرتبہ بھی خریدا جو ہماری کمپنی کی ہم پلہ ہے تو آپ کو یہ رعایت نہیں ملے گی کیا یہ شرط ٹھہرانا جائز ہے یا نہیں؟
اس کے جواب میں لکھا ہے: یہ معاملہ جائز ہے کیوں کہ خریدار کو سال کے تمام پر جو کمیشن ہر سیکڑہ پر دیا جاتا ہے وہ بائع کی طرف سے تبرع ہے، خریدار کا حق لازم نہیں اور تبرع کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳۸٦) ۔
ایک اور جگہ مذکور ہے، سوال: مدارس میں فیس داخلہ اور فیس ماہواری طلبہ سے لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے کیوں کہ یہ اجرت نہیں بلکہ چندہ ہے اور چندہ میں شرط جائز ہے کیوں کہ اس سے جبر لازم نہیں آتا جس کو شرط منظور نہ ہو گی اس کو عدمِ داخلہ کا اختیار ہو گا ۔
ودليله أنه ﷺ قال لمن أضافه وعائشة رضي الله تعالى عنها قال: لا، قال: فلا إذن حتى قال في الثالثة: وعائشة رضي الله تعالى عنها، قال: نعم
۔ (امداد الاحکام: ۳/٦۰٦) ۔
سوال و جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ داخلہ کی فیس کو کیسے جائز کہا جائے یہ تو تعلیم کی اجرت نہیں بلکہ وہ الگ ہوتی ہے، جواب یہ دیا کہ یہ تبرعِ مشروط ہے کہ ہمارا داخلہ دینا چندہ دینے کے ساتھ مشروط ہے اور اس میں جبر نہیں کیوں کہ بچے کو داخل نہ کرنے کا اختیار بچے کے والد کو ہے، بچے کو داخل ہی نہ کرا دے ۔
اسی طرح حضرت ابو بکر رضي الله عنه نے حضرت عازب رضي الله عنه سے اونٹ کا پالان خریدا عازب رضي الله عنه سے درخواست کی کہ اپنے بیٹے براء سے کہہ دیں کہ یہ پالان میرے ساتھ لے جائیں، حضرت عازب رضي الله عنه نے کہا نہیں مگر اس شرط پر کہ آپ ہجرت کا قصہ سنا دیں تو حضرت ابو بکر رضي الله عنه نے سنایا اور براء رضي الله عنه پالان لے گئے ۔
بخاری شریف میں ہے:

عن البراء رضي الله عنه قال: اشتري أبو بكر رضي الله عنه من عازب رضي الله عنه رحلاً بثلاثة عشر درهماً فقال أبو بكر رضي الله عنه لعازب رضي الله عنه: مر البراء فليحمل إلى رحلي فقال عازب رضي الله عنه: لا، حتى تحدثنا كيف صنعت أنت ورسول الله ﷺ حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم قال: ارتحلنا من مكة

الخ. (رواه البخاري: ۱/۵۱۵، في مناقب المهاجرين).

یہ تبرعِ مشروط ہے جس کی شرعاً گنجائش ہے، اسی طرح میڈیکل ایڈ میں علاج کی ذمہ داری لینا چندہ کے ساتھ مشروط ہے غرض یہ کہ اس کو اجارہ میں داخل کریں یا تبرعِ مشروط میں دونوں معاملات جائز ہیں ان میں سے کوئی بھی ناجائز نہیں ۔
اشکال: یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ اس معاملہ کو اجارہ قرار دیا جائے یا تبرع بالعوض دونوں صورتوں میں میڈیکل کمپنیوں کے بارے میں گمان غالب ہے کہ وہ سودی کاروبار اور بینکوں سے سود لینے میں ملوث ہوں گی، پھر اس علاج کا کیا حکم ہے جس میں سود کا عنصر شامل ہو؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ عام طور پر غیر مسلم ممالک میں میڈیکل ایڈ کمپنیاں غیر مسلموں کی ہوتی ہیں اور غیر مسلموں کے کاروبار اور معاملات کے بارے میں تین مذاہب ہیں:
(۱) امام زفر رحمه الله فرماتے ہیں کہ کافر حربی دار الحرب میں خلافِ شریعت معاملہ کر لے تو وہ فاسد ہے، کیوں کہ قرآن و حدیث کا خطاب عام ہے، ہاں حربیوں سے دار الحرب میں ہونے کی وجہ سے اور ذمیوں سے معاہدہ کی وجہ سے تعرض نہ کیا جائے گا، اس لیے غیر مسلم نے جو مال ناجائز طریقہ پر حاصل کیا ہو خواہ سود سے ہو یا قمار و خمر سے اس کا لینا مسلمان کے لیے جائز نہیں ۔
(۲) امام ابو یوسف رحمه الله اور امام محمد رحمه الله کے نزدیک اگر کافر حربی دار الحرب میں خلافِ شریعت معاملہ کر لے تو فاسد نہیں، کیوں کہ انہوں نے احکامِ اسلام کی پابندی اپنے اوپر لازم نہیں کی، ہاں ذمی جو مسلمان ملک میں رہتے ہوں ان کے معاملات کو اسلامی قوانین پر رکھا جائے گا، اگر ان کے معاملات اسلام کے متفقہ قوانین کے خلاف ہوں تو ان پر فساد کا حکم لگایا جائے گا، اور پھر اس سے حاصل شدہ رقم مسلمان کے لیے حلال نہیں، اگر انہوں نے سود سے رقم حاصل کر لی تو وہ رقم مسلمان کے لیے حلال نہیں ہو گی ۔
(۳) حضرت امام ابو حنیفہ رحمه الله کا مسلک یہ ہے کہ کفار خواہ دار الحرب کے رہنے والے ہوں یا دار الاسلام میں رہتے ہوں بغیر التزام اور معاہدہ کے اسلامی احکام کے پابند نہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ دار الحرب کے کفار تو دار الاسلام میں رہنے کی وجہ سے احکامِ اسلام کی پابندی سے دور ہیں اور جو ذمی غیر مسلم دار الاسلام میں رہتے ہیں انہوں نے ان احکام میں جو ان کے مذہب یا طریقہ یا قانون کے خلاف ہیں اپنے آپ کو پابند نہیں بنایا اور نہ اسلامی احکام پر چلنے کی پابندی خود پر لازم کی، لہذا وہ لوگ جو معاملہ اسلامی شریعت کے خلاف کرتے ہیں ان کو فاسد نہیں کہا جائے گا، اور اس کی کمائی سے مسلمانوں کا لینا جائز ہوگا، ہاں اگر اہل ذمہ مسلمانوں کے ساتھ کسی ایسے معاہدے پر دستخط کر دیں یا ایسی شرط کو قبول کر لیں جو اسلامی قانون یا اسلامی حکم ہو تو اس کے خلاف کرنے کو فاسد کہا جائے گا، اور پھر اس کا لینا یا کھانا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہوگا، غیر مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلم تو حربیوں کی طرح ہیں، لہذا ان کے معاملات کو جو ان کے قانون کے موافق ہیں فاسد نہیں کہا جائے گا، اور اس سے حاصل شدہ نفع مسلمان کے لیے لینا درست ہوگا، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمه الله نے اس پر امداد الاحکام میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور یہ فتوی حضرت تھانوی رحمه الله کی نظر سے گزرا ہے ۔
امداد الاحکام کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمه الله نے امام ابو حنیفہ رحمه الله کے قول پر فتوی دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
جواب کا حاصل یہ ہے کہ کفار مخاطب بالفروع فی العقوبات و المعاملات اگر چہ ہیں لیکن حکم بالحرمۃ و الفساد کے لیے خطاب عام کافی نہیں بلکہ التزام بھی شرط ہے، اہل حرب نے تو احکامِ اسلام کا التزام بالکل نہیں کیا نہ اپنے معتقد کے موافق میں اور نہ مخالف میں لہذا وہ تو جس طرح بھی روپیہ کمائے خواہ ربا سے خواہ غصب سے خواہ بیوعِ باطلہ و فاسدہ سے خواہ اپنے مذہب کے موافق خواہ مخالف طریق سے بہر صورت وہ روپیہ وغیرہ ان کی ملک میں داخل ہو جائے گا، اور مسلمان کو تنخواہ میں لینا اس کا جائز ہے ۔ (امداد الاحکام: ٤/۳۹۰) ۔
لیکن ہدایہ کی عبارت سے پتا چلتا ہے کہ سود کے معاملہ میں مسلمان اور کفار دونوں برابر ہے یعنی دونوں کے لیے سودی کاروبار ممنوع ہیں لہذا اگر میڈیکل ایڈ کمپنی کے کاروبار میں غالب حصہ سود یا پورا سود ہو تو ایسی کمپنی کی امداد لینے سے اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اگر غالب کاروبار حلال ہے پھر اس سے نفع اٹھانے اور علاج کرانے میں کوئی حرج نہیں ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

والربا مستثنى عن عقودهم لقوله عليه السلام: ألا من أربي فليس بيننا وبينه عهد. (الهداية: ۲/۳۳۸). (
صاحبِ ہدایہ کی اس عبارت کا جواب مصارفِ ربا کے تحت تفصیل سے مذکور ہوا وہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے) ۔
فتاوی قاضيخان میں ہے:

إن كان غالب مال المهدي من الحلال لا باس بأن يقبل الهدية ويأكل مالم يتبين عنده أنه حرام لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فيعتبر الغالب، وإذا مات عامل من عمال السلطان وأوصي أن يعطي الحنطة للفقراء قالوا: إن كان ما أخذه من أموال الناس مختلطاً بماله لا بأس به وإن كان غير مختلط لا يجوز للفقراء أن يأخذوه إذا علموا أنه مال الغير وإن لم يعلم الآخذ أنه من ماله أو مال غيره فهو حلال حتى يتبين أنه حرام. (إمداد الفتاوى بحواله قاضيخان: ۳/٤۹٤).

ان عبارات سے معلوم ہوا کہ اگر حلال حرام پر غالب ہے تو اس کے ساتھ معاملہ کرنے اور اس کے ذریعہ سے علاج کرانے میں کوئی حرج نہیں، ہاں اگر حلال پر غالب ہوا اور مسلمان کمپنی ہے تو پھر معاملہ کرنا درست نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.