فیس والا معمہ حل کرنے پر انعام کا حکم:
Question
بعض جگہوں پر اشتہار دیا جاتا ہے کہ جو شخص اس کا کوئی حل کر کے بھیجے اور اس کے ساتھ اتنی فیس مثلاً ایک روپیہ فیس کا بھیجے تو جن لوگوں کے حل صحیح ہوں گے ان میں سے انعام اس شخص کو دیا جائے گا جس کا نام لاٹری یا قرعہ اندازی کے ذریعہ نکل آئے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسی اسکیموں میں شرکت کی گنجائش ہے یا نہیں؟ نیز شرکت کرنے پر انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
اگر چلانے والے داخلہ فیس لیتے ہیں تو یہ قمار میں داخل ہو کر ناجائز ہے، ایسی اسکیموں میں شرکت کی گنجائش نہیں ہے، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے، اگر کسی نے غلطی سے شرکت کر کے انعام حاصل کر لیا تو پوری رقم واجب التصدق ہو گی، اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو قرآن کریم میں ہے:
﴿يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون﴾. (المائدة، الآية: ۹۰).
فقہیہ ابو اللیث سمرقندی رحمه الله میسر کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
وقال عطاء ومجاهد: الميسر القمار كله حتى لعب الصبيان بالجوز والكعاب. (تفسير السمرقندي: ۱/۲۰۳).
التعریفات الفقہیہ میں ہے:
القمار مصدر قامر هو كل لعب يشترط فيه غالباً أن يأخذ الغالب شيئاً من المغلوب، وأصله أن يأخذ الواحد من صاحبه شيئاً فشيئاً في اللعب ثم عرفوه بأنه تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين. (التعريفات الفقهية، ص ۱۷۷، وجواهر الفقه: ۲/۲۲۷، وإمداد الفتاوى: ۳/۱٦۱).
فتاوی شامی میں ہے:
وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص. (رد المحتار: ٦/٤۰۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
آپ کے مسائل میں ہے:
جو رقم فیس داخلہ وغیرہ ساتھ دی جاتی ہے وہ زیادہ کی خواہش اور زیادہ لینے کے لیے دی جاتی ہے اس لیے سود ہوا اور ملنا نہ ملنا غیر یقینی اس لیے جوا ہوا، سود اور جوا دونوں حرام ہیں ۔ زیادہ ملنے کی صورت نقد کی ہو یا ٹکٹ کی شکل میں، دونوں حرام ہیں، ان اسکیموں کا اصل مقصد زائد رقم کا لالچ ہوتا ہے ذہنی و علمی اضافہ مقصد نہیں ہوتا ۔ اس طرح جوئے کی عادت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے یہ ایک شریفانہ جوا ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲٦۱) ۔
جواہر الفقہ میں ہے:
معمہ کی مختلف صورتیں لکھ کر اشتہار دیا جاتا ہے کہ جو شخص اس کا کوئی حل کر کے بھیجے اور اس کے ساتھ اتنی فیس مثلاً ایک روپیہ فیس کا بھیجے تو جن لوگوں کے حل صحیح ہوں گے ان میں سے انعام اس شخص کو دیا جائے گا جس کا نام لاٹری یا قرعہ اندازی کے ذریعہ نکل آئے کھلا ہوا قمار (جوا) ہے کہ ایک شخص اپنا فیس کا ایک روپیہ اس موہوم طریق پر ڈالتا ہے کہ یا تو یہ روپیہ بھی ضائع ہو گیا اور یا ہزاروں روپیہ لے کر آیا اسی کا نام شرعِ اسلام میں جوا یا قمار ہے ۔ (جواہر الفقہ: ۲/۳٤۹) ۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
معمے کے حل بھیجنے کے لیے اگر کوئی فیس مقرر کی گئی ہو تو وہ قمار میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۳٤۱) ۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فیس داخلہ کے لیے ہے انعام کا بدل نہیں تو اس کے بارے میں حضرت مفتی محمود حسن صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
سب جانتے ہیں کہ محض داخلہ مقصود نہیں کہ اس کے لیے فیس برداشت کی جائے، بلکہ تحصیل رقم مقصود ہے جس کا نام "انعام" رکھا ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ انعام دینے والے کا مقصد بھی محض خانہ پری نہیں، نہ اس سے کوئی خاص غرض وابستہ ہے بلکہ انعامِ کثیر کا لالچ دے کر روپیہ جمع کرنا مقصود ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٤٤۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2079
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2079