ووڈاکوم کمپنی کے مسابقہ میں حصہ لینے کا حکم:
Question
آج کل بہت سی کمپنیوں میں مسابقہ ہوتا ہے جس میں جیتنے والے کو قیمتی انعامات دیے جاتے ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی ووڈاکوم (vodacom) کمپنی کی طرف سے پیش کردہ مسابقہ ہے ۔
اس کمپنی کا طریقہ کار یہ ہے کہ آدمی اس vodacomکمپنی کو ایک میسیج (SMS) بھیجتا ہے، اس میں تقریباً دس رینڈ خرچ ہوتے ہیں، دن کے اخیر میں SMS بھیجنے والوں کے درمیان قرعہ اندازی کی جاتی ہے اور جس کا نام نکلتا ہے اس کو ڈھائی لاکھ رینڈ کی گاڑی BMWدی جاتی ہے ۔
آج کل ہمارے مسلمان بھائی بھی اس مسابقہ میں بڑے ذوق سے حصہ لیتے ہیں، کیا شریعت کی نگاہ میں ایسے مسابقہ میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی کو انعام میں گاڑی مل جائے تو اس کا لینا جائز ہو گا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ vodacomکمپنی کا مسابقہ قمار اور جوا پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس میں حصہ لینا اور انعام حاصل کرنا جائز اور درست نہیں ہے، ہاں اگر کسی کو گاڑی مل جائے تو اس کو بیچ کر رقم کا صدقہ کرنا واجب اور ضروری ہے، البتہ داخلہ میں جتنی رقم خرچ ہوئی تھی فقط اس کا لینا درست ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون﴾ (سورة المائدة، الآية: ۹۰).
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إن الله حرم على أمتى الخمر والميسر. (مسند احمد: ۲/۳۵۱/۵٦۱۱، بيروت، وسنن أبي داود، ص ۳۲۷، باب ما جاء في السكر).
فتاوی شامی میں ہے:
وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص. (رد المحتار: ٦/٤۰۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
احکام القرآن میں ہے:
إن أهل الجاهلية كانوا يخطرون على المال والزوج وقد كان مباحاً إلى أن ورد تحريمه. (أحكام القرآن للجصاص رحمه الله، ۱/۳۲۹).
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
غرر کی ایک صورت جس کو فقہاء کرام رحمه الله نے "تعلیق التملیک علی الخطر" سے تعبیر فرمایا ہے کہ عقود معاوضہ میں تملیک کو کسی خطرہ پر معلق کرنا، خطر کا معنی ہے کوئی ایسا آنے والا واقعہ جس کے واقع ہونے یا نہ ہونے دونوں کا احتمال ہو اس واقعہ پر تملیک کو معلق کر دینا کہ اگر یہ واقعہ پیش آ گیا تو میں نے اپنی فلاں چیز کا تمہیں مالک بنا دیا اور اس کو قمار بھی کہتے ہیں ۔
اسی کا ایک شعبہ قمار بھی ہے قمار یعنی جوا یا میسر اس میں ایک طرف سے تو ادائیگی یقینی ہو اور دوسری طرف سے ادائیگی موہوم ہو مثلاً کوئی شخص کہے کہ سب لوگ دو، دو سو روپے میرے پاس جمع کروا دیں، پھر قرعہ اندازی کروں گا، جس کا نام قرعہ اندازی کے ذریعہ نکلے گا میں اس کو ایک لاکھ روپے دوں گا، یہ قمار کہلاتا ہے اور یہی میسر بھی کہلاتا ہے، تو جتنی بھی لاٹریاں ہمارے زمانے میں مشہور ہیں مثلاً ایرپورٹ پر گاڑی کھڑی کر رکھی ہے کہ دو سو روپے کے ٹکٹ خرید و بعد میں قرعہ اندازی کریں گے جس کا نمبر نکل آیا اس کو کار مل جائے گی، یہ قمار ہے، "
تعليق التمليك على الخطر"
ہے اور غرر کی ایک شعبہ ہے جو حرام ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۷٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٤۳۵، جامعہ فاروقیہ، و احسن الفتاوی: ۷/۲٦، و منتخباتِ نظام الفتاوی: ۲/۳۰۲)
اشکال: بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ میسیج کے ۱۰ رینڈ داخلہ فیس ہے، اور انعام کمپنی کی طرف سے لوگوں کو رغبت دلانے کے لیے ہوتا ہے، پھر عدمِ جواز کی کیا وجہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل داخلہ مقصود نہیں ہوتا بلکہ انعام حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے آدمی اسی کے لیے فیس بھی برداشت کرتا ہے ۔
ملاحظہ ہو حضرت مفتی محمود حسن صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
سب جانتے ہیں کہ محض داخلہ مقصود نہیں کہ اس کے لیے فیس برداشت کی جائے، بلکہ تحصیل رقم مقصود ہے جس کا نام "انعام" رکھا ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ انعام دینے والے کا مقصد بھی محض خانہ پری نہیں، نہ اس سے کوئی خاص غرض وابستہ ہے بلکہ انعامِ کثیر کا لالچ دے کر روپیہ جمع کرنا مقصود ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٤٤۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2082
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2082