غیر مسلم کو خنزیر کی کھال کے جیکٹ کا ہبہ کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #272Urdu

Question

ایک شخص نے جیکٹ خریدا بعد میں معلوم ہوا کہ خنزیر کی کھال کا بنا ہوا ہے کیا وہ کسی غیر مسلم کو ہبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ نجس العین ہے کسی بھی جزو کا استعمال جائز نہیں ہے، لہذا خنزیر کی کھال کا جیکٹ مسلمان کے لیے ممنوع ہے، اور اس کا حکم یہ ہے کہ واپس کر دے اور اپنا ثمن لے لے ۔ اگر کسی وجہ سے واپسی ممکن نہ ہو تو بلا نیتِ ثواب کسی غیر مسلم کو دے دے، کیوں کہ مسلمان کو مالِ حرام کا ہبہ درست نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی بینات میں ہے:
سوال: ہمارے ملک میں چائنا، اسپین اور دوسرے ممالک سے جو جوتے اور چمڑے کی مصنوعات آ رہی ہے، ان میں سور (خنزیر) کی کھال استعمال ہو رہی ہے بعض جوتے ریگزین کے بنے ہوے ہیں مگر ان کے اندر استر سور کی کھال کا ہے اور کچھ مکمل سور کی کھال کے بنے ہوے ہیں کیا یہ جوتے پہننا حرام ہے؟ کیا اس کی فروخت حرام ہے؟ جن دکاندار نے بھول سے کروڑوں روپے کا مال خرید لیا ہے، انھیں کیا کرنا چاہیے؟
الجواب باسم تعالی: خنزیر کے نجس العین ہونے میں کوئی شک نہیں فقہاء کرام نے اس کے تمام اجزاء کے استعمال اور ان کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے، اور وہ اشیاء جن میں خنزیر کے اجزاء اور کھال وغیرہ شامل ہوں، اس کا بھی یہی حکم ہوگا، خنزیر اور اس کے اجزاء سے تیار شدہ اشیاء میں بیع منعقد ہی نہیں ہوتی اور اس کا ثمن (قیمت) بائع کے لیے حرام ہوتا ہے، بلکہ اس کی ملکیت میں بھی داخل نہیں ہوگا جن لوگوں نے بھول کر ایسی مصنوعات خرید لی ہیں، وہ ان دکانداروں کو واپس کر دیں اور اور دکانداروں کو چاہیے کہ وہ ان کمپنیوں کو مال واپس کر دیں جن سے انہوں نے خریدا ہے، تاکہ وہ ان غیر مسلموں کو یہ مال و مصنوعات واپس کر کے اپنی رقم واپس لے سکیں ۔ (فتاوی بینات، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد چہارم، ص 470-471، مکتبہ بینات) ۔
معارف السنن میں ہے:

قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهائنا كالهداية وغيرها أن من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد إلى المالك فسبيله التصدق على الفقراء، قال: ومثله يقول ابن القيم في "بدائع الفوائد"،

قال: والظاهر أن المتصدق بمثله ينبغي أن ينوى به فراغ ذمته ولا يرجو به المثوبة، نعم يرجوها بالعمل بأمر الشارع، وكيف يرجو الثواب بمال حرام ويكفيه أن يخلص منه كفافاً رأساً برأسٍ!

وحديث ابن كليب أخرجه أبو داود في سننه (ص ٤۷۳) في (باب اجتناب الشبهات) من كتاب البيوع: عن عاصم بن كليب عن أبيه عن رجل من الأنصار قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازة

فلما رجع استقبله داعي امرأة، فجاء وجيء بالطعام فوضع يده، ثم وضع القوم فأكلوا فنظر آباؤنا رسول الله ﷺ يلوك لقمة في فمه، ثم قال: "أجد لحم شاة أخذت بغير إذن أهلها" فأرسلت المرأة، قالت: يا رسول الله! إني أرسلت إلى البقيع يشتري لي شاة فلم أجد، فأرسلت إلى جار لي قد اشتري شاة أن أرسل إلى بثمنها فلم يوجد، فأرسلت إلى امرأته، فأرسلت إلى بها، فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم: أطعميه الأسارى اه، (رواه أبو داود: ۲/۱۱۷، باب اجتناب الشبهات من كتاب البيوع). رواه الدارقطني في سننه (في باب الصيد والذبائح: ٤/۲۸٦/۵٤). وفيه: فبينا هو يأكل إذ كف يده، وفيه أطعموها الأسارى، وفي طريق آخر: فلما أخذ رسول الله ﷺ لقمته رمي بها. (في باب الصيد والذبائح: ٤/۲۸٦/۵۵). (معار ف السنن: ۱/۳٤، ۳۵، باب ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور، تحت قوله: ولا صدقة من غلول، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.