عشق و محبت کے ہدایا کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #293Urdu

Question

اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے محبت کرتا ہے اور اس کے پاس ہدایا بھیجتا ہے تو اس کا لینا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر لڑکا بعد میں محبت سے توبہ کرتا ہے تو ان ہدایا کا واپس لینا درست ہے یا نہیں؟

Answer

ناجائز تعلقات میں ایک دوسرے کو ہدایا پیش کرنا رشوت کے حکم میں ہے اس کا قبول کرنا درست نہیں ہے، اس سے ملکیت بھی ثابت نہیں ہوتی، اور دینے والے کو واپس مطالبہ کا حق رہتا ہے ۔ ہاں توبہ کرنے کے بعد اگر اس کا مطالبہ ترک کر دے اور معاف کر دیں تو کوئی حرج نہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله فرماتے ہیں:

وفيها (القنية) ما يدفعه المتعاشقان رشوة يجب ردها ولا يملك. (البحر الرائق: ٦/۲۸٦، كتاب الهبة، كوئته).

عالمگیری میں ہے:

المتعاشقان يدفع كل واحد منهما لصاحبه أشياء فهي رشوة لا يثبت الملك فيها وللدافع استردادها. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۰۳، الباب الحادي عشر في المتفرقات).
(وكذا في مجمع الضمانات: ۲/۹۳۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.