بغرض نکاح ہدیہ پیش کرنے کا حکم:
Question
اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی سے محبت کرتا ہو اور ناجائز تعلقات نہیں لیکن کوئی ہدیہ اس کے خاندان کے پاس اس لیے بھیجتا ہے تاکہ لڑکی یا لڑکی کے اہل خانہ نکاح کے لیے تیار ہو جائیں تو کیا یہ بھی رشوت کے حکم میں ہو کرنا جائز ہوگا؟
Answer
بصورتِ مسئولہ چونکہ ناجائز تعلقات نہیں ہیں، یہ ہدیہ تالیفِ قلب کی ایک تدبیر ہے اس لیے یہ ہدیہ قبول کرنا جائز ہے، جیسے مؤلفۃ القلوب کو ہدیہ یا صدقہ دینا دینی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تھا یہاں بھی نکاح جو دینی مقصد ہے اس کے حصول کے لیے یہ ایک ذریعہ ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2159
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2159