بروزِ عاشوراء ہدیہ دینے کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں:۔
(۱) عاشوراء کے دن ایک دوسرے کو ہدیہ دینے کا کیا حکم ہے؟
(۲) عاشوراء کے دن خاندان والوں کا جمع ہونا کیسا ہے؟
(۳) عاشوراء کے موقع پر مبارک باد دینا محض خوشی کی وجہ سے ٹھیک ہے یا نہیں؟
آج کل موبائل کے ذریعہ میسیج بھیجنے کا رواج ہے اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
شریعتِ مطہرہ کا قانون یہ ہے کہ جو کام سنت و مستحب نہ سمجھا جائے اس کی اصل کا ثبوت کافی ہے، اور اصولِ مسلمہ عند الشرع سے متصادم نہ ہو، تو اس کام کے کرنے کی گنجائش ہو گی شریعتِ مطہرہ میں اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں: ۔ مثلاً تعویذ یا دم کے لیے مطلق ثبوت کافی ہے، خصوصی ثبوت کی ضرورت نہیں، بنا بریں عاشوراء کے دن ہدیہ دینا اظہارِ مسرت اور الفت و محبت کی خاطر درست ہے جب کہ ضروری اور سنت نہ سمجھیں، لیکن جہاں ضروری سمجھا جاتا ہو اور نہ دینے والوں پر نکیر کی جاتی ہو تو وہاں درست نہیں اس سے بچنا چاہیے ۔
لیکن ایسے امور آہستہ آہستہ غلط رسم و رواج بن جاتے ہیں یا ان کو شریعت کی طرح سمجھا جاتا ہے اس لیے ان امور سے احتراز کرنا بہتر ہے ۔
مطلق ہدیہ کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
(
۱
) روى البخاري عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة. (رواه البخاري: ۱/۳٤۹).
(
۲
) وروى أيضاً عنه عن النبي ﷺ قال: لو دعيت إلى ذراع أو كراع لا جبت ولو أهدي إلى ذراع أو كراع لقبلت. (رواه البخاري: ۱/۳٤۹).
(
۳
) وروى أيضاً عن ابن عباس رضي الله عنه قال: أهدت أم حفيد خالة ابن عباس رضي الله عنه إلى النبي ﷺ أقطاً وسمناً وأضباً فأكل النبي ﷺ من الأقط والسمن
. (رواه البخاري: ۱/۳۵۰).
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ كان يقبل الهدية ويثيب عليها. (رواه البخاري: ۱/۳۵۲).
قال رسول الله ﷺ: "تهادوا تحابوا". (رواه البيهقي في سننه الكبرى، والبخاري في الادب المفرد).
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "تهادوا فإن الهدية تذهب وحر الصدر ولا تحقرن جارة لجارتها ولوشق فرسن شاة" (رواه الترمذي).
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: يا معشر الأنصار تهادوا فإن الهدية تحل السخيمة وتورث المودة. (مجمع الزوائد: ٤/۱۷۲).
عاشوراء کے دن اہل خاندان کا جمع ہونا: ۔
عاشوراء کے دن اہل و عیال کو اچھا اور خوب کھانا کھلانا احادیث اور کتب فقہ سے ثابت ہے، لیکن اس کے لیے جمع ہونا لازم نہیں، بلکہ کبھی کبھی جمع ہو جایا کریں تو ٹھیک ہے جب کہ اس کے ساتھ منکرات و غیر شرعی امور نہ ہوں، ہاں اکثر جمع ہونے سے بچنا چاہیے ۔
فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمه الله تنبیہ الغافلین میں فرماتے ہیں:
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من وسع على عياله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر السنة، قال سفيان: جربناه فوجدناه كذلك. (۱/۳۳۲).
یہ روایت اگر چہ ضعیف ہے لیکن فضائل اعمال میں اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے نیز فقہاء نے بھی اس حدیث کو قابل عمل فرمایا ہے ۔
اس روایت کی تحقیق، جلد اول ابو اب الحدیث ص ۲۹۳، پر گزر چکی ہے ۔
عاشوراء کے دن مبارک بادی دینا: ۔
یہ عمل بھی خوشی اور عیدین کے موقع پر صحابہ کرام
ث
سے ثابت ہے، لہذا اگر ضروری نہ سمجھیں بلکہ محض باعثِ مسرت سمجھ کر مبارک بادی دے تو اس کی گنجائش ہے ۔ لیکن ایسی چیزیں آہستہ آہستہ شرعی حکم کی طرح سمجھی جاتی ہیں اس لیے ان رسوم سے بچنا چاہیے ۔
أخرج الطبراني برواية حبيب بن عمر الأنصاري عن أبيه قال: لقيت واثلة بن الأسقع يوم عيد فقلت: تقبل الله منا ومنك، فقال: نعم، تقبل الله منا ومنك. (المعجم الكبير للطبراني: ۱۵/٤۳۰/۱۷۵۸۹). (وكذا في مجمع الزوائد: ۲/٤٤۲، التهنئة بالعيد).
وأخرج البخاري عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبيه في حديث طويل في قصة غيابه عن غزوة تبوك ثم إجابة الله توبته بعد خمسين يوماً تقريباً، يحكي حال مجيئته إلى المسجد بقوله: قال كعب رضي الله عنه حتى دخلت المسجد فإذا برسول الله ﷺ جالس حوله الناس فقام إلى طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه يهرول حتى صافحني وهناني إلى آخر الحديث. (رواه البخاري: ۲/٦۳٦).
وفي كشف الخفاء: التهنئة بالشهور والأعياد مما اعتاده الناس، قال في المقاصد: مروي في العيد أن خالد بن معدان لقي واثلة بن الأسقع رضي الله عنه في يوم عيد فقال له: تقبل الله منا ومنك، فقال له مثل ذلك، وأسنده إلى النبي ﷺ لكن الأشبه فيه الوقف، وله شواهد عن كثير من الصحابة ث بينها الحافظ في بعض الأجوبة
وروي في المرفوع من جملة حقوق الجار إن أصابه خير هنأه
بل أقوي منه ما في الصحيحين في قيام طلحة رضي الله عنه لكعب رضي الله عنه وتهنئته بتوبة الله عليه. (كشف الخفاء: ۱/۳۲۰).
وكذا في (المقاصد الحسنة، ص ۹۲).
قال في الدر: ندب
وإظهار البشاشة وإكثار الصدقة والتختم والتهنئة بتقبل الله منا ومنكم لا تنكر. قال الشامي رحمه الله: وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة
. ثم ساق آثاراً بأسانيد صحيحة عن الصحابة ث في فعل ذلك. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۲/۱٦۹، باب العيدين، سعيد).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلد دوم ص
۵۸۲
، بعنوان عیدین کے موقع پر مبارک بادی دینا) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی زندگی پہلے ہی سے رسومات سے بھری ہوئی ہے، لہذا ہدایا کی رسم اور مبارک باد دینے کی رسم قابل ترک ہے، اگر چہ اس کو دین کا حصہ نہ سمجھے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2147
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2147