وکیل اور دلال کے مابین فرق:
Question
وکیل اور دلال میں کیا فرق ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ وکیل اور دلال کے درمیان فرق یہ ہے کہ دوسرے شخص کا سپرد کیا ہوا کام دلال اجرت پر کرتا ہے اور وکیل اجرت اور بلا اجرت دونوں طرح کرتا ہے ۔
ملاحظہ ہو دستور العلماء میں ہے:
السمسار: من يعمل للغير بالأجر بيعاً أو شراء ويقال له في العرف الدلال. (دستور العلماء: ۲/۱۳۲).
والوكالة:
وفي الشرع تفويض التصرف في أمر شرعي إلى غيره أي إقامة الغير مقام نفسه في التصرف ممن يملك التصرف. والوكيل: هو الذي فوض إليه التصرف بإقامة المفوض أي الموكل إياه مقام نفسه في التصرفات. (دستور العماء: ۳/۳۲۱).
التعریفات الفقہیہ میں ہے:
الدلال هو السمسار أي الذي يدخل بين البائع والمشتري متوسطاً لا مضاء البيع. (التعريفات الفقهية: ۱/۲۹۳).
والوكالة، وهي شرعاً تفويض أحد أمره لاخر وإقامته مقامه ويقال لذلك الشخص موكل ولمن إقامه وكيل والأمر موكل به. (التعريفات الفقهية: ۱/۵٤٦).
اسلامی فقہ میں ہے:
وکالت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک خاص دوسرے عام، خاص کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کسی سے کہا کہ آپ اتنے روپے میں میرے لیے موٹر خرید دیجیے، یا فلاں مقدمہ کی پیروی کر دیجیے، اور عام کا مطلب یہ ہے کہ میرے فلاں کاروبار کی آپ پوری نگرانی کیجیے، یا میرے سارے مقدمات کی پیروی کیجیے، پھر ان دونوں کی دو دو قسمیں، ایک با اجرت، دوسرے بے اجرت، دونوں کے احکام یکساں ہیں، صرف ایک معاملہ میں بے اجرت وکیل کی ذمہ داری کم ہو جاتی ہے ۔
با اجرت وکیل میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اجرت لے کر یا کمیشن پر کوئی کام کرتے ہیں، کسی حکومت کے تمام ملازمین اس کے وکیل ہوتے ہیں، اس لیے ان کو اپنی حکومت کی مرضی کے مطابق کام کرنا چاہیے ۔ آپ اپنے ذاتی ملازم سے کوئی کام کرائیں تو یہ آپ کا وکیل سمجھا جائے گا، اسی طرح اگر آپ کمیشن ایجنٹ مقرر کریں تو یہ آپ کا وکیل سمجھا جائے گا، یعنی اس کو آپ کی ہدایت کے مطابق کام کرنا چاہیے ۔ (اسلامی فقہ: ۲/٦٤۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2231
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2231